متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 158114

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:
(1) سائل ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعہ لوگوں کو بیرون ملک کاروبار کی غرض سے بھیجتا ہے جس معاملے میں ایجنٹ بچت کا کچھ حصہ سائل کق بھی دیتا ہے جبکہ وہ جانے والے سے پورے پیسے وصولتا ہے بے چارہ جانے والا خوب مجبور ہوکر پیسے دیتا ہے مگر اجنٹ کم نہیں کرتا کیا یہ لینا جائز ہے ؟
(2)اور بعض معاملوں میں ہم یہ محسوس کراتے ہیں اور بعض مرتبہ یقین بھی دلاتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں لے رہیں ہیں کیا یہ بھی جائز ہے ؟
(3) جو رقم اب تک کما چکے (پہلی اور دوسری صورت میں حاصل رقم دونوں کے بارے میں الگ الگ بتائیں) اسکو لوٹانا ہوگا؟ جبکہ سائل خود سوال کرنے کی حالت میں ہے ؟
جواب جلد عنایت فرمائیں، نوازش ہوگی۔ جزاک اللہ

Published on: Feb 3, 2018

جواب # 158114

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:533-508/L=5/1439



اگر آپ کی حیثیت دلال کی ہے یعنی آپ لوگوں کو تشکیل کرکے ایجنٹ سے ملواتے ہیں اور پھر ایجنٹ ان سے معاملہ کرتا ہے اور آپ اپنی اجرت مقرر کرکے اجرتِ مقررہ ان سے لیتے ہیں تو آپ کے لیے رقم لینے کی گنجائش ہوگی، باقی اگر ایجنٹ اس معاملہ میں جھوٹ سے کام لیتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔



نوٹ: اس کے علاوہ اگر اس کی کوئی صورت ہو تو اسے لکھ کر دریافت کرلیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات