متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 158086

میرا نام سیماب اختر ہے، میں ایک دوکان میں نوکری کرتا ہوں، نام ہے خان فاریکس، یہاں کرنسی کے تبادلہ (currency exchange) کا کام ہوتا ہے، اور باہر کے ملکوں سے جو پیسے بھیجتے ہیں تو یہاں کسٹمرز کا Payment (ادائیگی رقم ) بناکر ان کو نقد اپنے پاس سے دیتے ہیں، بعد میں وہ پیسہ مالک کے اکاوٴنٹ یعنی خان فاریکس کے اکاوٴنٹ میں آجاتا ہے، ان کے پاس کچھ کمپنی کی ایجنسیاں ہیں جیسے ویسٹرن یونین، منی گرام، ایکس پریس منی، رائے منی، ٹرانس فاسٹ، ان میں کسٹمرز کے پیسے آتے ہیں، ان کے پاس ایجنسی ہے ،اس لیے اگر ان کے کاوٴنٹر سے Payment ہوتا ہے تو کمپنی ان کو کمیشن دیتی ہے جو بہت کم ہوتی ہے، یہ سب کچھ کسٹمرز کا Payment اتنا ہی اماؤنٹ یعنی جتناآ یا ہو تا ہے اس کو دے دیتے ہیں۔ کچھ کسٹمرز کالے لوگ حبشی وغیرہ ان کا روزانہ ٹرانزیکشن (لین دین کا عمل) ہوتا ہے یعنی روزانہ پیسہ آتا ہے، تو یہ مالک ان سے اس Payment کے بدلے میں پانچ فیصد یا چار فیصد یا تین فیصد یا ٹوٹل اماوٴنٹ میں سے ہزار یا پانچ سو لیتے ہیں یا کمیشن یہ اضافی لیتے ہیں، اور یہ دوسرے لوگوں کے پاسپورٹ پر دوسرے لوگوں کا Payment بھی منگوا دیتے ہیں، یعنی کسی کسٹمر کو رقم دیا تو اس کا ڈاکومنٹ (دستاویز) تو ہوتا ہی ہے اُسی ڈاکومنٹ (دستاویز) پر دوسرے کا پیسہ منگوا دیتے ہیں اور ا ن سے اضافی کمیشن لیتے ہیں۔
دوسرے کے ڈاکومنٹ (دستاویز) پر جو ٹرانزیکشن کرتے ہیں کہ کسی نے پہلے ٹرانزیکشن میں ڈاکومنٹ (دستاویز) دیا اب اس کی اضافی نقل کرلیتے ہیں اس کو بتائے بغیر اس سے چھپا کر، اور پھر اس آئی ڈی پر دوسرے کسٹمرز کا Payment منگاتے ہیں اور اس سے اضافی کمیشن لیتے ہیں جب کہ کمپنی ان کو کمیشن دیتی ہے وہ بہت کم ہے، اور سم کارڈ بیچتے ہیں، اور دوسرے کی آئی ڈی پر سم کارڈ نکال کر بیچتے ہیں اور منافع کماتے ہیں۔ یہ فوٹو کاپی مشین رکھتے ہیں جس سے اضافی دستاویز (extra document) کاپی کر لیتے ہیں اور اس کا استعمال ٹرانزیکشن میں اور سم نکالنے میں کرتے ہیں، کیونکہ میں دکان پر رہتا ہوں اس لیے مجھے بھی ان کی غیر موجودگی میں یہ کام کرنا پڑتا ہے، کیا مجھے ایسا کرنا چاہئے اگر میں منع کروں گا تو اختلاف ہوگا اور مجھے نوکری چھوڑنی ہوگی، کیا یہ کام شریعت کی نظر میں درست ہے؟ یہ کس درجہ کا عمل ہے؟ کیونکہ میں نوکری کرتا ہوں، کیا میرا اِن کے یہاں کام کرنا درست ہے؟ اور میری کمائی حلال ہے ؟
مہربانی کرکے رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

Published on: Jan 25, 2018

جواب # 158086

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:534-472/L=5/1439



کسی دوسرے کے دستاویز کی چوری اور اس کا غلط استعمال نیز کسی آئی ڈی کی کاپی کرلینا اور اس پر سم نکال کر دوسرے کو دیدینا جائز نہیں یہ دھوکہ کے ساتھ قانوناً بھی جرم ہے، پکڑے جانے پر جان مال عزت وآبرو کا خطرہ لاحق ہوسکتاہے؛ اس لیے اس چیز کی ملازمت جائز نہیں، اور اس سے حاصل آمدنی بھی حلال وطیب نہیں ہے، آپ اس طرح کے کاموں سے گریز کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات