متفرقات - حلال و حرام

INDIA

سوال # 158036

ایک شخص مسجد میں ٹیوشن سینٹر چلا رہاہے جب کہ وہ نہ تو امام ہے ، نہ موذن ہے، نہ اس کے پاس کوئی ڈگری ہے ، جیسے وستانیہ، فوقانیہ، مولوی، عالم، حافظ، وغیرہ ، وہ پانچویں کلاس کے بچوں کو پڑھاتاہے، وہ فیس اپنے پاس رکھتاہے ، وہ مسجد کو ایک بھی پیسہ نہیں دیتاہے ، اور بچے مسجد کو پشاب پاخانہ کرکے گندہ کردیتے ہیں ۔
براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 25, 2018

جواب # 158036

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:444-376/D=5/1439



ٹیوشن سینٹر مسجد شرعی کے حصے میں چلانا اور عصری تعلیم دے کر فیس حاصل کرنا یہ دونوں کام مسجدمیں جائز نہیں قال في الہندیة لو جلس المعلم في المسجد والوراق یکتب فإن کان المعلم یعلم للحسبة والوراق یکتب لنفسہ فلا بأس بہ؛ لأنہ قربة، وإن کان بالأجرة یکرہ (الہندیة: ۵/ ۳۷۱)



ہاں اگر پڑھانے والا مسجد کے باہر پڑھائے اور پڑھانے کی اہلیت رکھتا ہو (خواہ مولوی عالم نہ ہو) تو پڑھانے کی اجرت لینا جائز ہے۔ مسجد کی وضع نماز، ذکر، تلاوت قرآن اور وعظ ونصیحت کے لیے ہے، پانچویں تک کا کلاس لگانا اور اجرت خود لینا دونوں باتیں مسجد کی وضع کے خلاف ہیں۔ نیز چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانے سے حدیث میں صراحةً ممانعت وارد ہے بالخصوص جب وہ شور وشغب کرنے والے ہوں اور پیشاب وغیرہ سے مسجد کے ملوث ہونے کا اندیشہ ہو، اس لحاظ سے بھی مذکور فی السوال عمل مسجد میں جائز نہیں، حدیث میں ہے: جنبوا مساجدَکم صبیانَکم ومجانینَکم وشراء کم الخ (رواہ ابن ماجہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات