متفرقات - حلال و حرام

INDIAN

سوال # 157811

حضرت مفتی صاحب! کیا مکڑی کو مارنا جائز ہے؟

Published on: Jan 14, 2018

جواب # 157811

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:491-54T/L=4/1439



مکڑی جو گھروں میں جالا تنتی ہے وہ موذی نہیں ہے ،بلاضرورت اسے مارنا نہ چاہیے ؛البتہ اگر مکڑی کے جالے ہوگئے ہوں تو صاف کر سکتے ہیں۔



وقیل: لا یسن قتلہافقد أخرج الخطیب عن علیّ کرّم اللہ تعالی وجہہ قال: قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم دخلت أنا وأبو بکر الغار فاجتمعت العنکبوت فنسجت بالباب فلا تقتلوہن ذکر ہذا الخبر الجلال السیوطی فی الدر المنثور،واللہ تعالی أعلم بصحتہ وکونہ مما یصلح للاحتجاج بہ، ونصوا علی طہارة بیتہا لعدم تحقق کون ما تنسج بہ من غذائہا المستحیل فی جوفہا مع أن الأصل فی الأشیاء الطہارة، وذکر الدمیری أن ذلک لا تخرجہ من جوفہا بل من خارج جلدہا، وفی ہذا بعد. وأنا لم أتحقق أمر ذلک ولم أعین کونہ من فمہا أو دبرہا أو خارج جلدہا لعدم الاعتناء بشأن ذلک لا لعدم إمکان الوقوف علی الحقیقة، وذکر أنہ یحسن إزالة بیتہا من البیوت لماأسند الثعلبی وابن عطیة وغیرہما عن علی کرّم اللہ تعالی وجہہ أنہ قال: طہروا بیوتکم من نسج العنکبوت فإن ترکہ فی البیوت یورث الفقر وہذا إن صح عن الإمام علی کرّم اللہ تعالی وجہہ فذاک، وإلا فحسن الإزالة لما فیہا من النظافة ولا شک بندبہا.( روح المعانی ط: دار الکتب العلمیة بیروت:/۱۰365)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات