متفرقات - حلال و حرام

Canada

سوال # 157750

میں عرصہ دراز سے کینیڈا میں رہائش پزیر ہوں۔ کینیڈا کیونکہ ایک غیر اسلامی ریاست ہے اوردارالسلام نہ ہونے کی وجہ سے ان کے تمام تر قوانین خود ساختہ اور انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں جو جہاں پر اسلامی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کسی حد تک انسان کو تحفظ فرہم کرتے ہیں وہیں پر کچھ قوانین ایسے بھی ہیں جو اسلام اور قرآن و سنت کے اعتبار سے بلکل شریعت کے مخالف ہیں۔جیسے کہ شادی کے بغیر اولاد کو پیدا کرلینا، مرد کا مرد سے شادی کر سکنا اور عورت کاعورت سے شادی اورپھرصرف ایک وقت میں ایک ہی شادی کی اجازت دینا ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی نہ کر سکنا وغیرہ وغیرہ۔ بظاہر یہ تمام قوانین ان کو تحفظ وہ بھی وقتی طورپر دیتے ہوئے نظر آتے ہیں پر درحقیقت میں ان کی اپنی ہی نسلوں کو نگل رہے ہیں اور ایسے میں ان کی غلیظ نظر مسلمان خاندانوں پر جاتی ہے جہاں پر ان کو بچے نظر آتے ہیں ایسے میں تمام تر مراعات دے کر کڑوی گولی میٹھائی میں رکھ کر مسلمانوں کو کھلانا چاہتے ہیں مسلم امیگریشن کی مد میں اور کِھلا بھی رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے گھرانوں جن سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا کہ اباؤاجدا مسلمان تھے پر اب کوئی نہیں ہے ۔کئی گھر ایسے ملے جہاں پر مسلمان لڑکیوں اور لڑکوں نے غیرمسلم سے شادیاں کر رکھی ہیں اور ان غیر مسلم گھرانوں کی ڈھب پر چل رہے ہیں اور پیدا ہونے والی اولاد کا کوئی دین نہی۔ میرا تعلق عبقری سے ہے اور کینیڈا میں ٹوٹی پھوٹی خدمت خلق کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور مزید کرنا چاہتا ہوں پر وسائیل محدود ہونے کی وجہ سے بے بس ہوں۔ گئے دنوں ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو ایک چیز سامنے آئی کہ جذبے میں کوئی شک نہیں پر مالی مشکلات ہیں جو کسی طور پر حل ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں پر ایک راستہ ضرور ہے جس کو باقائدہ طور پرصاحب علم علماء کرام سے جو بیرون ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں اور بیرون ممالک میں رہنے والے لوگوں کے مسائل (گھریلو الجھنیں، طلاقوں کی بڑھتی شرح اولاد کی نافرمانیاں اور مالی و معاشرتی بدحالی )کو بخوبی سمجھتے ہیں ان صاحبان سے ڈسکس(بات چیت ) کرے کے اجازت لی اور پھر مجھے بھی اسی کا مشورہ دیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ یہاں کینیڈا میں ویسے تو بہت سی لاٹری سسٹم موجود ہیں جو OLG کے نام سے ایک ادارہ ہے جو چلا رہا ہے اس کی انفارمیشن بھی بھیج رہا ہوں۔ یہ ادارہ اکھٹی شداہ رقم کا ایک بڑا حصہ اپنے ایڈمینسٹریشن چارجز میں سے خیرات کے طور مقامی ہسپتالوں، ویلفیر اداروں اور بہت سے دیگر گونمنٹ کے سماجی کام کرنے والے اداروں پر خرچ کرتاہے ۔ اس پیسے سے جو ہر ہفتے 6 کینیڈین ڈالر کے عوض لوگ خریدتے ہیں اورہر ہفتے قرعہ اندازی کے ذریعے جیتنے والے کو دے دیا جاتا ہے اگر نکل آئے تو ٹھیک ورنہ وہ پیسہ ضائع ہو گیا۔
بس میرا سوال یہی ہے کہ کیا کینیڈا جیسا ملک جو دارلسلام نہیں اور اگر ان کی رضامندی ہو کہ جیتنے پر پیسہ دینے میں کوئی اعتراض نہیں تو کیا یہ لاٹری "خیرات کی نیت" سے خریدنا جائز ہے اور اگر انعام نکل آئے تو یہ تمام تر پیسہ" مخلوقِ خدا کی خدمت پر لگانے کا عزم "ہو جس سے کینیڈا میں ایسے ادارے قائم ہوں جو ہماری نسلوں کو تحفظ فراہم کر سکیں جیسے مذید مساجد کاقیام، اسلامی سکولوں کا قیام جو بہت ضروری ہے ( تیسری جماعت سے ہی مقامی سکولوں میں سیکس کی تعلیم کا قانون پاس کردیا ہے جس سے امت بہت پریشان ہے براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاح فرمادیں تاکہ صیراطِ مستقیم کا حصول ممکن ہو۔ جزاک اللہ خیرا

Published on: Jan 3, 2018

جواب # 157750

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:482-48T/L=4/1439



آپ کا خدمت خلق کا جذبہ مبارک ہے، مگر اس کے لیے لاٹری کی اجازت نہیں ہے؛ کیونکہ لاٹری سود اور قمار پر مشتمل ہے جن کی ممانعت نص قطعی سے ثابت ہے، مفتی بہ قول کے مطابق دارالحرب میں بھی اس کی گنجائش نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات