متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 150406

۱) عورت کا خود اپنا ہی دودھ پینا کیسا ہے ؟ اگر کسی عورت نے خود اپنا ہی دودھ پی لیا تو کیا حکم ہے ؟
۲) فرض عبادت جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ کا ثواب کسی مردہ یا زندہ کو پہونچانے سے پہونچتا ہے یا نہیں ؟ اگر پہنچتا ہے تو پہونچانے والے کی جانب سے وہ فرض ساقط ہوگا یا نہیں اور اسے اس فرض کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟
۳) کیا مسجد میں بیت بازی کا مقابلہ منعقد کرنا درست ہے ؟
مفتی صاحب تمام سوالوں کے جوابات مدلل دیں، بہت بہت مہربانی ہوگی۔

Published on: Apr 13, 2017

جواب # 150406

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 725-689/N=7/1438



(۱، ۲): عورت کا دودھ جزو انسانی ہے ، وہ اصلاً انسان کے لیے حرام ہے، شیر خوار بچوں کے لے صرف ضرورت کی بنا پر جائز ہواہے؛ اس لیے مردوں، عورتوں یا (چاند کے حساب سے)دو سال سے زیادہ عمر کے بچوں یا بچیوں کے لیے عورت کا دودھ حرام ہے؛ لہٰذا اگر کسی عورت نے اپنا یا کسی دوسری عورت کا دودھ پی لیا تو اس نے حرام چیز پی، اس پر توبہ واستغفار لازم ہے۔



 ولم یبح الإرضاع بعد مدّتہ؛ لأنہ جزء آدمی والانتفاع بہ لغیرضرورة حرام علی الصّحیح ، شرح الوھبانیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع، ۴: ۳۹۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، في وقت مخصوص ہو حولان ونصف عندہ وحولان فقط عندہما وہو الأصح فتح، وبہ یفتی کما في تصحیح القدوري عن العون لکن في الجوہرة أنہ في الحولین ونصف ولو بعد الفطام محرِّم وعلیہ الفتوی،…والأصحّ أن العبرة لقوة الدلیل (المصدر السابق، ص:۳۹۳-۳۹۷)، قولہ: ”والأصح أن العبرة لقوة الدلیل“: قال في البحر: ولا یخفی قوة دلیلہما الخ (رد المحتار)۔



(۳): راجح ومفتی بہ قول کے مطابق نوافل کی طرح فرائض کا بھی ایصال ثواب درست ہے (باقیات فتاوی رشیدیہ، ص ۱۹۷، احسن الفتاوی ۴: ۲۵۳، ۹: ۱۷)۔ اور ایصال ثواب کی صورت میں فرض بھی ذمہ ساقط ہوجائے گا اور خود عمل کرنے والے کو بھی اس کا ثواب ملے گا۔



وفی البحر بحثاً أن إطلاقھم شامل للفریضة لکن لا یعود الفرض في ذمتہ ؛ لأن عدم الثواب لا یستلزم عدم السقوط عن ذمتہ اھ علی أن الثواب لاینعدم الخ (رد المحتار، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ۴: ۱۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ونقلہ الشامي عنہ فی رد المحتار (کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۵۲) أیضاً،وقد نقل عن جماعة أنھم جعلوا ثواب أعمالھم من فرض ونفل للمسلمین (البحر الرائق، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر،۳: ۱۰۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، (وللإنسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ في جمیع العبادات) فرضاً أو نفلاً (سکب الأنھر مع المجمع، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ۱: ۴۵۸، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔



(۴): بیت بازی کے مقابلہ میں صرف دینی اشعار کا اہتمام نہیں ہوتا؛ بلکہ اس میں ہر گروپ کی جانب سے مختلف قسم کے اشعار پیش کیے جاتے ہیں اورمسجد عبادت خداوندی کی جگہ ہے، اس میں صرف عبادت اور دینی کاموں کی اجازت ہوتی ہے ؛ اس لیے مسجد میں بیت بازی کا مقابلہ منعقد نہ کیا جائے ، مسجد کے ادب واحترام کا تقاضہ یہی ہے۔



و-یکرہ فی المسجد- الکلام المباح، وقیدہ فی الظھیریة بأن یجلس لأجلہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا، ۲: ۴۳۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”بأن یجلس لأجلہ“: فإنہ حینئذ لا یباح بالاتفاق؛ لأن المسجد ما بني لأمور الدنیا (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات