متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 147326

ایک نکاح ہوا جس میں لڑکی لڑکے کی پھوپھی زاد بہن تھی اور لڑکا لڑکی کا ماموں زاد بھائی تھا، کبھی لڑکی کی نانی نے اس کے شوہر کو اپنا دودھ پلایا تھا (مطلب اپنے پوتے کو دودھ پلایا تھا بنا مجبوری کے) اب کسی عالم نے کہا کہ ان کا نکاح جائز نہیں ہوا کیونکہ لڑکی کی نانی کے اس کے شوہر کو دودھ پلانے کے سبب وہ لڑکا لڑکی کا ماموں ہوا، اس لیے یہ نکاح جائز نہیں اور وہ میاں بیوی کی طرح ساتھ نہیں رہ سکتے، شادی کو تین سال گذر چکے ہیں اور اب ایسی بات سامنے آئی ہے، آپ سے گذارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں کہ شادی جائز رہے گی یا ناجائز؟

Published on: Jan 10, 2017

جواب # 147326

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 264-253/N=4/1438



صورت مسئولہ میں اگر یہ بات تحقیق سے ثابت شدہ ہے کہ لڑکی کی نانی نے اس کے شوہر (:اپنے پوتے) کو مدت رضاعت میں، یعنی: چاند کے حساب سے دو سال مکمل ہونے سے پہلے دودھ پلایا ہے؛ البتہ دونوں کے اہل خانہ نے مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے دونوں کا نکاح کردیا اور اب شادی کے تین سال بعد مسئلہ کا علم ہواتو ایسی صورت میں کسی عالم صاحب نے جو مسئلہ بتایا ، وہ صحیح ودرست ہے، اس میں شک شبہ کرنے کی ضرورت نہیں، پس دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اور لا علمی میں جو نکاح ہوا اور اس کے بعد دونوں کے درمیان جو ازدواجی تعلقات قائم ہوئے ، ان سب ناجائز کاموں سے سچی توبہ واستغفار کیا جائے۔ اور اگر نانی کے دودھ پلانے میں کوئی شک شبہ ہو، اس کا یقین نہ ہو تو ایسی صورت میں پوری تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کیا جائے۔ وحرم الکل مما مر تحریمہ نسبا…رضاعاً إلا ما استثني فی بابہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ۴:۱۰۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، فیحرم منہ أي: بسببہ ما یحرم من النسب رواہ الشیخان (المصدر السابق، باب الرضاع، ۴:۴۰۲) ، ولیس ھذا من الصور المستثناة في ھذا الباب۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات