متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 147052

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں بینک میں ملازمت کرنا کیسا اور اس سے حاصل شدہ رقم جایز ہے یا نہیں اسی طرح اگر کوئی شخص بینک ایجنسی لے اور اسکی آمد اس سے اس طریقہ پر ہو کہ اسکے ہر جمع شدہ ایک لاکھ روپے پر اسکو تین سو روپے ملیں گے , کیا یہ شکل جایز ہے ؟ براہ کرم جواب سے مطلع فرمائے کرم ہوگا۔

Published on: Jan 7, 2017

جواب # 147052

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 217-192/N=4/1438



 



 (۱): بینک کی جس ملازمت میں سودی حساب کتاب لکھنا پڑے، اسے چیک کرنا پڑے یا اس میں سود کے متعلق کوئی اور کام کرنا پڑے، وہ ناجائز ہے، اور بینک کی جس ملازمت میں سود کے متعلق کوئی بھی کام نہ ہو جیسے بینک میں دربانی اور بینک کی گاڑی کی ڈرائیوری وغیرہ، اس کی گنجائش ہے ، وہ ملازمت کرسکتے ہیں۔ ولا تعاونو علی الإثم والعدوان (قرآن پاک، سورہ مائدہ، آیت:۳) ، عن جابر قال:لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال: ھم سواء (صحیح مسلم شریف بحوالہ:مشکوة شریف ص ۲۴۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔



 



 (۲):بینک ایجنسی لینے کا مطلب کسی بینک کا ما تحت ہوکر بینک کا نظام قائم کرنا ہے اور ظاہر بات یہ ہے کہ بینک کا بنیادی نظام سودی لین دین اور معاملات کا ہو تا ہے ؛ اس لیے بینک ایجنسی لینا اور اس کے ذریعے لوگوں کے جمع کردہ ہر ایک لاکھ روپے پر بینک سے تین سو روپے کمیشن لینا جائز نہ ہوگا۔ ولا تعاونو علی الإثم والعدوان (قرآن پاک، سورہ مائدہ، آیت:۳)، عن جابر قال:لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال: ھم سواء (صحیح مسلم شریف بحوالہ:مشکوة شریف ص ۲۴۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات