عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 384

سوال یہ ہے کہ کمپنی کا آفاقی ملازم دوسرے تیسرے دن مکہ جاتا ہے، کیا ہر مرتبہ احرام و عمرہ لازم ہے؟ جب کہ بعض مرتبہ وقت بھی نہیں ہوتا۔ اور اگر کوئی لمبے وقفے کے بعد جاتا ہے تو کیا حکم ہے؟ کمپنی سے وقت محدود ہوتا ہے۔ دونوں کا حکم مفصل اور مدلل بیان فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔

Published on: May 23, 2007

جواب # 384

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 219/ن=219/ن)


 


حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ جو شخص میقات سے باہر رہنے والا ہے اگر وہ مکہ مکرمہ یا حرم کے ارداہ سے سفر کرے چاہے حج یا عمرہ کے ارادہ سے ہو، یا تجارت وسیر وغیرہ کے لیے ہو۔ بہرصورت میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا واجب ہوجاتا ہے ولا یجوز للآفاقي أن یدخل مکة بغیر إحرام نوی النسک أو لا ولو دخلہا فعلیہ حجة أوعمرة (عالمگیري: 1/221) البتہ جو شخص کاروباری ہو اوراس کو بار بار مکہ میں آنے کی ضرورت پڑتی ہو تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ان لوگوں کے لیے بغیر احرام کے گذرنا بلاتکلف جائز ہے وقال الشافعي رحمہ اللّہ إن دخلہا للنسک وجب علیہ الإحرام وإن دخلہا لحاجة جاز دخولہا من غیر إحرام (بدائع الصنائع: 2/371) حنفی علماء بھی بعض روایات کو بنیاد بناکر گنجائش بتاتے ہیں: عن ابن عباس قال لا یدخل أحد الحرام إلا بإحرام فقیل ولا الحطابون قال ثم بلغني بعد أنہ رخص للحاطبین (طحاوي:1/438، ط ہندی) اور عمدة القاری میں ہے وقال أبوعمر لا أعلم خلافا بین فقہاء الأمصار في الحطابین ومن یدمن الاختلاف إلی مکة ویکثرہ في الیوم واللیلة أنہم لا یأمرون بذلک لما علیہم فیہ من المشقة (عمدة القاري: 10/205، ط کوئٹہ پاکستان) اس لیے سواقین ڈرائیور اور سرکاری ملازمین اورمکہ مکرمہ سے تجارتی سامان کے لانے لے جانے والے شہری ضروریات کے سامان لانے لے جانے والے کاروباری آمد و رفت کرنے والے کے لیے بلا احرام داخل ہونے کی گنجائش ہے، البتہ جو لوگ مہینہ دو مہینہ میں آتے جاتے ہیں، ان کے حق میں کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ (انوار المناسک ملخصاً: 248-249)


 


نوٹ: اگر آپ دوسرے تیسرے دن جاتے ہیں اور عمرہ کا وقت بھی ہے تو بہتر یہی ہے کہ آپ عمرہ کرلیں اور اگر وقت میں تنگی ہو تو مذکورہ بالا گنجائش پر عمل کرسکتے ہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات