عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 172981

میں جدہ میں رہتا ہوں۔ اس سال حج کا ارادہ ہے۔ میں نے دس دن پہلے عمرہ بھی کیا ہے ۔ اب میں حج کے تینوں قسموں میں سے کس کی نیت کروں۔ حج افراد، حج تمتع اور حج قران۔ جواب جلد ہی چاہیے۔

Published on: Sep 12, 2019

جواب # 172981

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1171-217T/sn=1/1440



 جدہ میقات کے اندر ہے اور میقات کے اندر ( خواہ حل ہو یا حرم)رہنے والے کو گر اس سال حج کا ارادہ ہو تو اس کے لیے عمرہ کرنا شرعا جائز نہیں ہے، اگر عمرہ کرلے تو اسے چاہیے کہ اس سال حج نہ کرے؛ بلکہ آئندہ کرے؛ باقی اگر اسی سال حج کرلے گا تو فریضہٴ حج ادا ہوجائے گا؛ لیکن اس پر دم واجب ہوگا۔اب جب کہ حج کا زمانہ گزر گیا تو اگر آپ نے اس سال حج کیا ہے خواہ افراد، تمتع، قران کسی بھی نیت سے کیا ہو حج ادا ہوگیا؛ البتہ آپ پر شرعا توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ ایک دم بھی لازم ہے۔



. . . . یزاد علی الأیام الخمسة ما فی اللباب وغیرہ من کراہة فعلہا فی أشہرالحج لأہل مکة ، ومن بمعناہم أی من المقیمین ، ومن فی داخل المیقات؛ لأن الغالب علیہم أن یحجوا فی سنتہم ، فیکونوا متمتعین ، وہم عن التمتع ممنوعون، وإلا فلا منع للمکی عن العمرة المفردة فی أشہرالحج، إذا لم یحج فی تلک السنة، ومن خالف فعلیہ البیان شرح اللباب، ومثلہ فی البحر. (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 3/ 477، ط: زکریا، دیوبند) قال العلامة النسفی رحمہ اللہ تعالی فی التیسیر: إن حاضری المسجد الحرام ینبغی لہم أن یعتمروا فی غیر أشہرالحج ، ویفردوا أشہر الحج للحج ، وفی شرح الإسبحابی علی مختصر الطحاوی: وإنما لہم أن یفردوا العمرة أو الحج فإن قارنوا أو تمتعوا فقد أساؤوا ویجب علیہم الدم لإساء تہم ( غنیة الناسک، ص: 283،ط: سہارنفور)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات