عبادات - حج وعمرہ

Saudi Arabia

سوال # 162023

میں سعودی عرب کے قسیم خطہ کے شہر بریدہ میں رہتاہوں، ہم عمرہ کرنے کے لیے ہم مکہ جاتے ہیں تو میقات سے گذرتے ہیں مگر احرام نہیں باندھتے ہیں، اور اپنے دوستوں کے گھر میں ٹھہرتے ہیں اور اگلے دن ہم احرام کے لیے یا تو مسجد عائشہ دوسرے حدود حر م میں جاتے ہیں اور پھر عمرہ کرتے ہیں۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہم آفاقی ہیں اور ہمیں میقات میں ہی احرام باندھنا چاہئے اور حدود صرف مکہ کے مقیم کے لیے ہے، کیا یہ بات درست ہے؟ کیا ہم اپنے پچھلے عمرہ کے لیے جومذکورہ بالا طریقے سے کیا ہے، دم دینا پڑے گا ؟

Published on: Jul 9, 2018

جواب # 162023

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1287-1121/L=10/1439



آپ کی بات درست ہے ،آفاقی کے لیے میقات سے احرام باندھنا ضروی ہے ؛لہذا آپ نے مذکورہ بالا طریقے کے مطابق جتنے عمرے کیے ہیں ہر عمرہ کے بدلے ایک ایک دم دینا آپ لوگوں پر لازم ہے۔ان کان لم یخرج الی المیقات للاحرام وأحرم من میقات أہل مکة وہو بمکةأو أحرم من میقات أہل البستان وہو بہ یجب علیہ الدم لترک التلبیة علی المیقات․(التاتار خانیہ:۳/۵۵۲)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات