عبادات - حج وعمرہ

Pakistan

سوال # 161

جو شخص پہلی بار حج یا عمرہ پر جائے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ چالیس نماز یں مسجد نبوی میں ادا کرے؟ کیا مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنا حج یا عمرہ کے لیے ضروری ہے؟یا یہ سنت ہے یا مستحب؟اگر کوئی حج یا عمرہ میں جائے اور مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا نہ کرے تو کیا اس کا حج یا عمرہ ادا ہوگیا؟


Published on: Apr 16, 2007

جواب # 161

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 384/ج=384/ج)


 


مسجد نبوی میں چالیس نمازیں لگاتار اور مسلسل پڑھنا نہ حج کرنے والے کے لیے ضروری ہے اور نہ عمرہ کرنے والے کے اور نہ کسی او رکے لیے۔ یہ صرف فضیلت کی چیز ہے۔ اللہ جس کو توفیق عنایت فرمادیں اس کے لیے سعادت اور خوش نصیبی کی چیز ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص میری مسجد (مسجد نبوی) میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھے کہ اس کی کوئی نماز نہ چھوٹے تو اس کے لیے دوزخ سے براء ت و حفاظت اورعذابِ الٰہی سے نجات لکھ دی جاتی ہے اور وہ نفاق سے بری (پاک و صاف) ہوتا ہے: عن أنس بن مالک رضي اللّہ عنہ عن النبي صلی اللّہ علیہ وسلم أنہ قال: من صلّی في مسجدي أربعین صلاةً لا یفوتہ صلاة کتبت لہ برائة من النّار و نجاة من العذاب وبرئ من النفاق۔ (رواہ أحمد في مسندہ : 3/155)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات