عبادات - حج وعمرہ

india

سوال # 159594

ایک شخص اپنے کسی عزیز سے ملنے یا گھومنے کے ارادے سے جدہ جاتا ہے او رپھر وہ وہاں سے مکہ جاتا ہے، تو کیا اس پر ضروری ہے کہ وہ جب مکہ جائے تو احرام باندھ کر جائے اور عمرہ کرے، جب کہ وہ کئی سال پہلے اپنا حج کرچکا ہے؟

Published on: Apr 4, 2018

جواب # 159594

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:692-569/B=7/1439



اگر اس شخص کا بنیادی مقصد جدہ جانے کا ہے اور وہاں پہنچنے کے بعد وہ مکہ مکرمہ چلاجائے اور حج یا عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو اس پر عمرے یا حج کا احرام لازم نہیں، تاہم بہتر یہی ہے کہ کعبة اللہ کے احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے۔ وحصلہ أن الشرط أن یکون سفرہ لأجل دخول الحل وإلا فلا تحل لہ المجاوزة بلا احرام․ (رد المحتار: ۳/ ۶۲۴، کتاب الحج/ باب الجنایات ط: زکریا) دخل کوفي أي آفاقي البستان أي مکانا من الحل داخل المیقات لحاجة لہ دخول مکة غیر محرم ووقتہ البستان ولا شيء علیہ؛ لأنہ التحق بألہ․ (التنویر مع الدر والرد: ۳/ ۶۲۳-۶۲۵، کتاب الحج/ باب الجنایات، ط: زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات