عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 158314

زید ایک 23سال کا لڑکا ہے اس کو ایک خاتون اپنے والدمرحوم کی جانب سے حج بدل کرواناچاہتی ہیں توکیا اس طرح حج بدل کرونا صحیح ہے ؟

Published on: Feb 11, 2018

جواب # 158314

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 581-451/SN=5/1439



جی ہاں! یہ خاتون اس 23سالہ لڑکے کو حج بدل کے لیے بھیج سکتی ہے؛ البتہ حج بدل کے لیے ایسے شخص کو بھیجنا اچھا ہے جس نے اپنا حج کرلیا ہو والأفضل للإنسان أن یحجّ رجلاً عن نفسہ أن یحج رجلا قد حج عن نفسہ، ومع ہذا لو أحج رجلا لم یحج عن نفسہ حجة الإسلام یجوز عندنا وسقط الحج عن الآمر․ (ہندیة: ۱/ ۲۵۷، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات