عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 157783

حضرت مفتی صاحب! میں سعودی عرب میں رہتا ہوں۔ ہم لوگ عمرہ کرنے ماشاء اللہ جاتے رہتے ہیں۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا میری بیوی کو حرم شریف میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا بہتر ہے یا ہوٹل میں اکیلے؟ اس کا دل کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت حرم شریف میں گذارے، کیا میں یہ کر سکتا ہوں کہ ا س کو جب وہ نماز پڑھ لے تب ہوٹل سے جاکر لے آوٴں اور وہ حرام شریف میں بیٹھ کے قرآن شریف وغیرہ پڑھے اور طواف کرے۔ یا اس کو بھی اپنے ساتھ نماز کے لیے لاسکتا ہوں؟ بہتر کیا ہے؟
براہ کرم، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Jan 20, 2018

جواب # 157783

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:382-337/M=4/1439



حدیث شریف میں ہے کہ عورت کی نماز اپنے گھر میں، مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے، اس لیے صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ جس ہوٹل میں ٹھہری ہوتی ہیں وہیں اکیلے نماز پڑھا کرے، اس کو وہیں پورا ثواب مل جاتا ہے، اسی طرح تلاوت، ذکر وغیرہ بھی ہوٹل میں بیٹھ کر کرلیا کرے اور صرف طواف کے لیے حرم شریف آئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات