عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 157712

میرے والد نے بینک سے لون لیا ہے اور میں والد صاحب کے ساتھ بزنس کررہا تھا ، تو کیا میں اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ عمرہ کے لے جاسکتا ہوں؟

Published on: Jan 22, 2018

جواب # 157712

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:414-352/D=4/1439



بینک سے لون لینے کی صورت میں سود کی ادائیگی کرنی ہوگی اور سودی معاملہ کرنے کا ارتکاب بھی ہوگا اور دونوں کام ناجائز ہیں، پس والد صاحب نے کاروبار کے لیے جو لون لینے کا معاملہ کیا ہے یہ غلط اور ناجائز کام ہوا، انھیں جلد سے جلد لون کی ادائیگی کرکے فارغ ہوجانا چاہیے اور اپنے کاروبار کو اس طرح غل وغش سے صاف ستھرا رکھنا چاہیے تاکہ سود کی بے برکتی کا اثر کاروبار میں پیدا نہ ہو۔



پھر بھی جو رقم بطور قرض بینک سے ملی ہے اس میں چونکہ کوئی خرابی (خبث) نہیں ہے لہٰذا کاروبار میں اس کے شامل ہونے سے مجموعی رقم میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی اور آپ مجموعی رقم میں سے عمرہ کے لیے رقم لے کر بیوی بچوں کے ساتھ عمرہ کرنے جاسکتے ہیں۔ اور والد صاحب بھی جانا چاہیں تو وہ بھی جاسکتے ہیں، لیکن قرض کی ادائیگی پہلے ضروری ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات