عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 156399

درج ذیل مسئلہ کا جواب مطلوب ہے ، میں نے ایک کمپنی میں دو لاکھ روپئے لگائے کمپنی اس پیسے سے تجارت کرے گی اور منافع میں سے چالیس فیصد مجھے دے گی ،اب اگر دو سال کے بعد میں اس کمپنی سے نکلناچاہوں تو کمپنی میری اصل رقم دو لاکھ پورا واپس کر د ے گی تو کیا اس کمپنی میں پیسہ لگانا جائز ہے ؟

Published on: Dec 20, 2017

جواب # 156399

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:252-210/sn=3/1439



اصل رقم کی ضمانت کے ساتھ کسی کمپنی میں پیسے لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، یہ درحقیقت قرض دے کر نفع لیتے رہنے کی شکل ہے جسے حدیث میں ”رِبَا“ (سود) کہا گیا ہے؛ ”کل قرض جر منفعة فہو ربا“ (مصنف ابن ابی شیبہ) سرمایہ کاری شرکت (یا مضاربت) کے اصول پر ہونی چاہیے، شرکت کے بعض بنیادی اصول یہ ہیں (۱) منافع حصہٴ مشاع کے طور پر طے ہو یعنی جو کچھ نفع ہوگا اس کا اتنا فیصد ایک کو اور اتنا فیصد دوسرے کو۔ (۲) اگر کبھی خسارہ ہوجائے تو تمام شرکاء کو بہ قدر سرمایہ برداشت کرنا ہوگا، ایک شریک کا خسارہ برداشت کرنے کا ذمے دار ہونا شرعاً جائز نہیں ہے۔ (۳) بہ وقت شرکت دونوں کا سرمایہ معلوم ہو اور نقد کی شکل میں ہو۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: بدائع الصنائع (۵/۷۷، ط: زکریا) نیز چند اہم عصری مسائل: ۲/ ۲۴۴، وبعدہ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات