عبادات - حج وعمرہ

india

سوال # 154927

حج کے فرض ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ مکہ مکرمہ تک پہنچنے کا خرچہ بھی ہے اور مدینہ منورہ کے لیے خرچ نہ ہو تو بھی اس پر حج فرض ہے لیکن ہندوستان کے حج کمیٹی کا طریقہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں کے لیے فارم بھرایا جاتا ہے تو اس صورت میں صرف مکہ مکرمہ کا خرچہ ہے مدینہ منورہ کا خرچہ نہ ہو تو کیا کیا جائے ؟
برائے مہربانی مجھے جلدی سے اس کا جواب دینے کی مہربانی ہو۔

Published on: Oct 12, 2017

جواب # 154927

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 2-3/N=1/1439



اگر کسی پاس بہ ذریعہ حج کمیٹی حج کرنے کے لیے صرف مکہ مکرمہ کا خرچہ ہے، مدینہ منورہ کا خرچہ نہیں ہے تو اس پر شرعاً حج فرض ہوجائے گا( معلم الحجاج، ص ۷۳، ۷۴، مسئلہ: ۳۳، مطبوعہ: پاکستان)؛ البتہ اگر صرف مکہ مکرمہ پہنچ کر حج کرنے کی کوئی صورت نہ ہو تو وجوب ادا نہ ہوگا؛ لہٰذاایسا شخص مزید پیسوں کا نظم کرتا رہے اور جب مکمل پیسوں کا نظم ہوجائے تو حج کرلے ورنہ حج بدل کی وصیت کردے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات