عبادات - حج وعمرہ

Ksa

سوال # 154855

ایک شخص جدہ سے بغیر احرام کے حج کے ارادے سے مکہ مکرمہ گیا اور مسجد حرام سے احرام باندھ کر عمرہ اور حج ادا کیا تو حج اور عمرہ ادا ہوا یا نہیں.. اس صورت میں قربانی اور دم لازم ہوگا یا نہیں؟
امید ہے کہ جواب جلد از جلد ارسال کریں گے ۔توصیف احمد

Published on: Oct 7, 2017

جواب # 154855

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1531-1512/L=1/1439



اگر وہ شخص جدہ ہی میں رہتا تھا تو ایسے شخص کو چاہیے تھا کہ جدہ سے احرام باندھ کر پھر مکہ جاتا اور حج افرادکرتا ،اگر اس نے مکہ میں جاکر احرام باندھا تو اس پر ایک قربانی واجب ہو گئی ،اواگر اس نے حج قران یا تمتع کیا تھا تو اس پر دوسری قربانی واجب ہوگئی؛البتہ حج قران یا تمتع درست ہوگیا۔ کل شئی فعلہ القارن مماذکرناأن فیہ علی المفرد دماً فعلیہ دمان دم لحجتہ ودم لعمرتہ الا أن یتجاوز المیقات من غیر احرام ثم یحرم بالعمرة والحج فیلزمہ دم واحد․(قدوری:۱۰۷باب الجنایات) لیس لأھل مکة ولا لأہل المواقیت تمتع ولا قران ،انما لہم أن یفردواالعمرة أوالحج ،فان قارنواأوتمتعوافقد أساؤا،ویجب علیہم الدم لاساء تہم․(الفتاویٰ التاتارخانیة:۳/۶۲۰)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات