عبادات - حج وعمرہ

pakistan

سوال # 154583

(۱) حضرت، مجھے پیٹ کی شکایت رہتی ہے مگر ہر نماز میں نہیں بلکہ اکثر اوقات میں۔ اور مجھے وہم اور وساوس کا مسئلہ بھی رہتا ہے۔ اس سال میں نے عمرہ کیا، دوران طواف مجھے گمان ہوا کہ جیسے میرا وضو ٹوٹ گیا ہو، لیکن میں نے یہ سوچ کر طواف جاری رکھا کہ یہ تو وساوس ہیں یا پھر میں شرعی مجبور ہوں کیونکہ مجھے اکثر یہ مسئلہ رہتا ہے۔ میں نے طواف مکمل کر لیا۔ لیکن احتیاطاً احرام نہیں کھولا۔ دوسرے دن میں نے دوبارہ طواف کا ارادہ کیا اور دوسرے دن طواف سے پہلے ہی وضو ٹوٹنے کا غالب گمان ہوا لیکن والد صاحب ساتھ تھے لہٰذا طواف بے وضو ہی کر لیا اور سعی کرکے احرام کھول دیا، بعد میں سوچا تو پہلے نمبر پر کیا ہوا طواف ٹھیک سا معلوم ہوا یعنی پہلے مجھے وضو ٹوٹنے کا یقین نہ تھا۔ رہنمائی فرمائیں کہ ایسے میں کیا حکم ہوگا؟ عمرہ ادا ہوا یا نہیں؟ اور دَم واجب ہوگا یا نہیں؟
(۲) نیز یہ بھی بتائیں کہ میں شرعی معذور کے حکم میں آوٴں گا یا نہیں؟ کیونکہ مجھے یہ مسئلہ ہر نماز میں نہیں ہوتا، مگر کبھی کبھی بہت زیادہ رہتا ہے۔
(۳) میرا دوسرا سوال بھی اسی قسم کا ہے کہ طواف زیارت کے وقت میں نے چار دفع وضو کیا، لیکن ہر بار طواف شروع کرنے سے پہلے ہی میرا وضو ٹوٹ گیا اور میں نے طواف بے وضو ہی کر لیا۔ اور دوسرے دن آکر طواف زیارت دوبارہ کر لیا۔ دوسرے دن بھی محسوس ہوتا رہا جیسے وضو نہ ہو کیونکہ مجھے پیٹ کی شکایت کی وجہ سے کچھ نہ کچھ محسوس ہوتا رہتا ہے مطلب گیس کی حرکت وغیرہ لیکن دوسرے دن جب طواف زیارت کیا تو غالب گمان نہیں تھا کہ وضو ٹوٹا ہے، اس لیے میں نے طواف جاری رکھا۔
(۴) اسی طرح اب جب بھی نفلی طواف کرتا ہوں تو یہی کیفیت رہتی ہے۔ کبھی تو وضو ٹوٹنے کا غالب گمان ہوتا ہے، کبھی شک، اور کبھی یقین۔
مجھے بتائیں کہ میرا حج اور عمرہ ادا ہوا یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ میں ان مسائل کے ساتھ مزید عمرہ اور طواف ادا کروں یا نہیں؟
(۵) یہ بھی بتادیں کہ کیا عمرہ کا طواف ادا (دہرانا)احرام کھولنے کے بعد کیا جاسکتا ہے؟ اور کیا ایسا کرنے سے طواف میں کی ہوئی غلطی کا دَم ساقط ہو جائے گا؟

Published on: Oct 10, 2017

جواب # 154583

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1385-1365/sd=1/1439



 صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کو یقین یا ظن غالب ہے کہ عمرہ کا پہلا طواف آپ نے با وضوء کیا ہے ، تو ایسی صورت میں آپ کا طواف اداء ہوگیا ، اب شک شبہہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، وسوسے کا علاج یہی ہے کہ اُس کی طرف دھیان ہی نہ دیا جائے اور اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لیا جائے ۔



(۲) اگر کبھی کبھی آپ کوریاح کی شکایت ہوتی ہے ، ایک فرض نماز کا مکمل وقت ایسا نہیں گذرا کہ جس میں ریاح کے بغیر وضو کر کے فرض نماز اداء کر سکیں، تو ایسی صورت میں شرعا آپ معذور نہیں ہونگے ، معذور شرعی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک فرض نماز کا وقت ایسا گذر جائے کہ اگر اس میں عذر کے بغیر وضوء کر کے فرض اداء کرنا چاہیں، تو نہ کر سکیں، یعنی عذر کا تسلل اس درجہ ہونا ضروری ہے ۔



(۳) اگر آپ نے دوسرے دن با وضوء طواف زیارت کر لیا، تو آپ کا طواف زیارت اداء ہوگیا، اب شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔



(۴) جب وضوء ٹوٹنے کا غالب گمان ہو، تو دوبارہ وضوء کر کے نفلی طواف کرلینا چاہیے ، اگر شک ہو، تو دوبارہ وضوء کی ضرورت نہیں ہے ۔



(۵) عمرہ میں طواف رکن یا شرط ہے ،عمرہ کا طواف بغیر احرام کے نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ احرام بھی عمرے کے لیے شرط ہے ،اس طرح طواف کرنے سے دم ساقط نہیں ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات