عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 149467

میں نے اور میری والدہ نے ۲۰۰۷ء میں حج کیا تھا، دسویں تاریخ شیطان کو کنکر مارنے کے بعد ہی ہم نے طواف زیارت کیا اور اس کے بعد سعی، آپریشن کی وجہ سے میرے سیدھے پیر میں راڈ ڈالی ہوئی ہے، پیر میں شدید درد کی وجہ سے میں نے صرف سعی پانچ چکر ہی کیا اور میری والدہ نے بھی، تو اس کا کیا کفارہ ہوگا؟
ان شاء اللہ اس رمضان میں عمرہ پر جارہا ہوں اس لیے جو بھی میرے ذمہ کفارہ ہوگا وہیں ادا کردوں گا۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں، کرم ہوگا۔

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 149467

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 538-482/N=6/1438



صورت مسئولہ میں اگر آپ نے اور آپ کی والدہ نے ۲۰۰۷ء کے حج میں طواف زیارت کے بعد سعی کے سات چکروں میں سے صرف پانچ چکر کیے اور دو چکر نہیں کرسکے تو آپ پر اور آپ کی الدہ پر ہر چکر کے عوض صدقہ فطر کے بہ قدر غلہ یا اس کی قیمت واجب ہے جو حرم شریف کے فقراء کو دیدی جائے یا ہندوستان میں بھی کسی فقیر کو دے سکتے ہیں؛ البتہ افضل فقراء حرم کو دینا ہے؛ لیکن بلا وجہ صدقہٴ جنایت میں تاخیر کرنا اچھا نہیں؛ اس لیے آپ لوگ ہندوستان ہی میں جلد از جلد کل چار فطرے کے بہ قدر غلہ یا اس کی قیمت ایک یا چند غریبوں کو دیدیں۔ ویجب لکل شوط …من السعي نصف صاع (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، باب الجنایات، ۳:۵۹۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،قولہ: ”ومن السعي“:أي: لو ترک ثلاثة منہ أو أقل فعلیہ لکل شوط منہ صدقة الخ لباب (رد المحتار)،……، قولہ: ”أین شاء“: أي: في غیر الحرم أو فیہ ولو علی غیر أھلہ لإطلاق النص بخلاف الذبح ، والتصدق علی فقراء مکة أفضل، بحر (رد المحتار،۴: ۵۹۱، ۵۹۲)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات