عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 146496

میرے ایک عیسائی دوست نے پوچھا کہ عمرہ اور حج کرنے کے بعد ہم بال کیوں کٹواتے ہیں؟ کیا اسی لیے کہ یہ حضور کی سنت ہے؟ اس کے پیچھے کیا مصلحت ہے اللہ کی اور کیا کوئی سائنسی وجہ بھی ہے ؟
برائے مہربانی قرآن و حدیث کے حوالے سے مدلل جواب دیں تاکہ میں اپنے دوست کو سمجھا سکوں۔

Published on: Dec 8, 2016

جواب # 146496

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 251-207/L=2/1438



 



اصل تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت ہے اس لیے احرام سے نکلنے کے لیے حلق یا قصر کو واجب قرار دیا گیا ہے تاہم اس میں دو حکمتیں علماء نے تحریر کی ہیں۔



(۱) اگر اس سلسلے میں لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تو لوگ احرام سے نکلنے کے لیے نہ جانے کیا کیا حرکتیں کر بیٹھتے اس لیے احرام سے نکلنے کے لیے ایک ایسا طریقہ مقرر کیا گیا جو وقار و متانت کے منافی بھی نہ ہو جس طرح نماز سے نکلنے کے لیے سلام کو واجب قرار دیا گیا۔



(۲) احرام میں سرمٹی سے بھر جاتا ہے جڑوں میں گرد او رمیل جم جاتا ہے اس لیے سر کا ”تفث“ (میل کچیل) اس وقت دور ہوگا جب کہ سر مونڈ دیا جائے جو کہ احرام سے نکلنے کا افضل طریقہ ہے، یا کم از کم انگلی کے ایک پوروے کے بقدر کاٹ دیا جائے۔ قال فی حجة اللہ البالغة: والسر فی الحلق أنہ تعیین طریقٍ للخروج من الإحرام بفعلٍ لاینافی الوقار فلو ترکوا وأنفسہم لذہب کل مذہب کل مذہباً، وأیضاً ففیہ تحقیق انقضاء التشعث والتغیر بالوجہ الأتم ومثلہ کمثل السلام من الصلاة۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات