عبادات - حج وعمرہ

Bangladesh

سوال # 145983

طواف کے نیت اور استلام باشارت الید کا طریقہ کیا ہے ؟ کف الید قبلہ رخ رکھنا یا اپنی طرف؟ چومنا ہوگا کے نہیں؟ آخری استلام ترک کرنے سے طواف کا حال کیا ہوگا؟ برائے کرم مشکور فرماویں۔

Published on: Nov 22, 2016

جواب # 145983

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 145-141/L=2/1438



 



(۱) طواف کی کوئی مستقل نیت مذکور نہیں ہے، بس دل سے طواف کی نیت کرلینا کہ: اب میں طواف کرنے جارہا ہوں، کافی ہے۔ دور سے استلام کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاکر، ہتھیلیوں کے اندرونی حصے سے حجرہ اسود کی جانب اشارہ کیا جائے، پھر دونوں ہاتھوں کو چوما جائے۔



(۲) بغیر استلام کے بھی طواف درست ہو جائے گا؛ البتہ اس کے ترک کرنے سے ثواب میں کچھ کمی آجائے گی۔ وصفة الاستلام المسنون: أن یضع کفیہ علی الحجر ویضع فمہ بین کفیہ بلا صوت، فإن لم یقدر، یضع یدیہ علیہ ثم یقبلہما، أو یضع یدہ الیمنی فقط، وإن لم یتمکن من وضع یدیہ یمسہ بطرف نحو عصاً ثم یقبلہا ․․․․․ فإن لم یمکنہ مسہ بشيء استقبلہ مشیرا إلیہ بباطن کفیہ حال کونہما حذاء اذنیہ ثم یقبلہما الفقہ الحنفی في ثوبہ الجدید ۱/۴۷۱، کتاب الحج/ وصف افعال الحاج، المفرد ، ط: دارالایمان سہارنفور یوفی (الہند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات