عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 145757

میرے لڑکے کی عمر آٹھ سال ہے اُسے اپنے ساتھ عمرہ کے لیے لے جانا ہے، مجھے اس کی نیت کس طرح کرنی ہے؟
اور ضروری مسائل بتائیں۔
جزاک اللہ

Published on: Nov 20, 2016

جواب # 145757

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 104-088/D=2/1438



آٹھ سال کا بچہ عموماً حد تمیز کو پہنچ جاتا ہے، ایسا بچہ نیت اور عمرہ کے دیگر افعال مثلاً احرام باندھنا، طواف کرنا، سعی کرنا خود ہی کرے گا، آپ کا اس کی نیابت کرنا صحیح نہیں، البتہ جہاں ضرورت پڑے آپ اس کی رہنمائی کرتے رہیں اور اگر اس سے کوئی جنابت صادر ہو جائے تو نہ اس پر کوئی جزاء ہے اور نہ آپ پر۔ قال في غنیة الناسک: فالممیز لایصح النیابة عنہ في الاحرام ولا في أداء لأفعال إلا في مالم یقدر علیہ فیحرم بنفسہ ویقضی المناسک کلہا بنفسہ ویفعل کما یفعل البالغ (ص:۱۰۵) وفي الدر: الواجب دم علی محرم بالغ فلا شیٍء علی الصبي (شامي: ۳/۵۷۲) وفي غنیة الناسک: یشرط في وجوب الجزاء ․․․․ العقل فلا یجب علی صبي ومجنون ولا علی ولیہما (غنیة الناسک ص: ۳۱۰) باقی ضروری مسائل کے لیے مطالعہ فرمائیں ”مسائل حج و عمرہ“ کتاب المسائل وغیرہ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات