عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 131124

(۱) جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا والدہ کی عمر ۶۰/ سال سے اوپر ہے جو پورے طور پر بیڈ رسیٹ (بستر پر آرا کرتی ) ہیں ،مشکل سے چل پھر سکتی ہیں، ، ان کے شوہر کا انتقال آج سے چار سال پہلے ہوا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ان کو مجھے حج کروانا ہے مگر وہ بولتی ہیں کہ مجھ سے چلا پھرا نہیں جاتا میں حج کے ارکان کیسے ادا کر پاوٴں گی، گھر والے رشتہ دار اور پڑوسی سب سمجھاتے ہیں لیکن ان کا ایک ہی جواب رہتا ہے مجھ سے چلا پھرا نہیں جاتا، تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟ حج بدل کیا جائے؟ اور اگر حج بدل کرنا پڑے تو کیا عورت کے بدلے عورت کرے یا آدمی کے ذریعہ بھی حج بدل کیا جا سکتا ہے؟ الحمد للہ پیسے کا مسئلہ نہیں ہے۔
(۲) میری عمر ۳۲/ سال ہے، میرے دو بچے ہیں جن کی عمر پانچ اور دوسرے کی ایک سال ہے، ایک چھوٹا بھائی بھی ہے جو ابھی ہوسٹل میں میڈیکل کی پڑھائی کررہا ہے اور اس کا انحصار مجھ پرہے ، مسئلہ یہ ہے کہ میں نے گھر کے لیے قرضہ لیا ہے مگر وراثت میں اتنی پراپرٹی ہے کہ جن سے وہ قرضہ ادا کیا جاسکتا ہے اور ماہانہ تنخواہ بھی اتنی ہے جس سے ماہانہ قسط جاتی ہے اور پندرہ سال تک قسط ادا ہوسکتی ہے تو کیا اس صورت میں حج کیا جاسکتا ہے یا پہلے قرض چکانا پڑے گا جیسا کہ سوال نمبر (۱) میں میں نے عرض کیا کہ والدہ بیوہ ہیں تو کیا مجھے ان کو ساتھ لے کر جانا چاہئے؟
وضاحت فرمائیں، عنایت ہوگی۔

Published on: Oct 27, 2016

جواب # 131124

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1237-1226/M37=01/1438



(۱) اگر آپ کی والدہ جسمانی طور پر صحت مند ہیں، خود سے افعال کی ادائیگی پر قادر ہیں تو ان کی طرف سے حج بدل درست نہیں، ان کو خود ساتھ میں لے جائیں اور اگر والدہ چلنے پھرنے سے معذور ہیں اور عدت تک ایسی تندرستی کی بظاہر توقع نہیں ہے کہ وہ افعال از خود انجام دے سکیں تو ایسی صورت میں والدہ کی طرف سے حج بدل کراسکتے ہیں، بہتر یہ ہے کہ حج بدل کے لیے ایسے مرد کو بھیجیں جس نے اپنا فریضہٴ حج ادا کرلیا ہو۔



(۲) اچھا یہ ہے کہ حج جانے سے قبل قرض کی ادائیگی سے ذمہ فارغ کرلیں اور اگر قرض کا فوری مطالبہ نہیں ہے اور حج کے بعد ادائیگی کا نظم متوقع ہے تو قرض ادا کرنے سے پہلے بھی حج کے لیے جانے میں مضائقہ نہیں، حج کے لیے جا سکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات