عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 169610

حضرات میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو صحیح حدیث سنانا گناہ ہے جس سے کسی کی غلط فہمی دور ہو جائے اور حق بات ظاہر ہو جائے کیونکہ مجھے کسی نے کہا ہے کہ حدیث شریف صرف عالِم ہی سنا سکتا ہے کوئی آم مسلمان نہیں؟ براہ کرم جواب جلدی ہی فراہم کریں۔

Published on: Apr 8, 2019

جواب # 169610

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:706-604/sn=8/1440



بہتر تو یہی ہے کہ حدیث عالم دین ہی بتلائے؛ باقی اگر کسی غیر عالم نے کسی معتمد عالم یا کسی معتبر کتاب میں کوئی حدیث صحیح صحیح سنی یا پڑھی ہے تو وہ اس معتبر کتاب یا عالم کے حوالے سے حدیث دوسروں کو بتاسکتا ہے، یہ گناہ نہیں ہے؛ البتہ حدیث سے از خود استنباط اور استخراج سے احتراز ضروری ہے، اسی طرح بلا حوالہ صرف یہ کہہ کر کہ بزرگوں سے سنا، بڑوں سے سنا، احادیث بیان کرنے سے احتراز ضروری ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات