عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

INDIA

سوال # 168911

میرا سوال یہ ہے کہ کیا عمامہ کا شملہ سرین یا کمر سے نیچے لٹکانا بدعت ہے ؟ اگر ایسا نہیں تو پھر اسکا کتنا نیچے لٹکانا جائز ہے ؟

Published on: Mar 17, 2019

جواب # 168911

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 712-676/H=07/1440



جی ہاں عمامہ کا شملہ سرین کے نیچے لٹکانا بڑا گناہ، اور آخرت میں اللہ تعالی کے غضب کا موجب ہے، حدیث شریف میں ہے الإسبال في الإزار والقمیص والعمامة، من جرّ منہا شیئا خیلاء لم ینظر اللہ إلیہ یوم القیامة (رواہ أبوداوٴد: ۴۹۴) البتہ سرین کے اوپر تک رکھنے کی اجازت ہے، اور اس میں علماء کے تین قول ہیں:



(۱) وسط ظہر ۔ (۲) موضع جلوس ۔ (۳) ایک بالشت ۔ (فتاویٰ دارالعلوم: ۱۶/۱۶۴) ۔ وإرسال ذنب العمامة بین کتفیہ إلی وسط الظہر ، وقیل لموضع الجلوس ، وقیل شبر (الدر مع الرد: ۱۰/۴۸۶، کتاب الخنثی، مسائل شتی) اور ان تینوں مقداروں کے اندر بہتر وہ ہے جو معتاد ہو، اس لئے کہ بعض شراح حدیث نے معتاد سے زائد کو مطلقاً اسبال میں شمار کیا ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات