عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 164762

میں نے ایک رسالہ میں ترمذی کی ایک روایت پڑھی ہے کہ "جو شخص جس برتن میں کھانا کھائے پھر اسے صاف کرے تو اس کیلئے برتن استغفار کرتا ہے " اس کا کیا مطلب؟ یعنی جس پلیٹ میں ہم نے کھایا ہے اسے بالکل صاف کریں جس طرح گھر کی عورتیں برتن کو اچھے سے صاف کرتی ہیں؟

Published on: Sep 11, 2018

جواب # 164762

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1483-1242/D=12/1439



جی ہاں کھانے کا کوئی دانہ یا جز برتن میں لگا نہ رہ جائے، اچھی طرح برتن صاف کردیا جائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ تم کو نہیں معلوم کہ کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔



اور دوسری حدیث جس کا ذکر سوال میں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں عن نبیشة عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من أکل في قصعة فلحسہا استغفرت لہ القصعة رواہ أحمد والترمذي (مشکاة: ۳۶۶)



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے کسی پیالہ میں کچھ کھایا پھر اسے چاٹ لیا (اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قدردانی کرتے ہوئے اور کھانے کے کسی حصہ کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے) تو پیالہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے، حدیث کا مطلب واضح ہے کہ کھانے کا کوئی حصہ برتن میں لگا نہ رہ جائے جس سے کھانا ضائع ہو یا اس کی ناقدری ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات