عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

pakistan

سوال # 164013

لا طلاق فی ما لا یملک ولا عتاق فی ما لا یملک (مستدرک حاکم، ۰۲۸۲)
آدمی جس عور ت کا مالک نہ ہو، اس کو دی گئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں اور جس غلام کا مالک نہ ہو، اس کو آزاد کرنے کا کوئی اعتبار نہیں۔
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ‘من طلق ما لا یملک فلا طلاق لہ’ (مستدرک ۲۲۸۷) یعنی جس شخص نے اس عورت کو طلاق دی جو اس کی ملکیت میں ہی نہیں تو اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔
جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
لا طلاق لمن لم یملک ولا عتاق لمن لم یملک (مستدرک حاکم، ۹۱۸۲)
جو شخص عورت کا مالک نہ ہو، اس کی کوئی طلاق نہیں اور جو شخص غلام کا مالک نہ ہو، اس کے آزاد کرنے کا کوئی اعتبار نہیں۔
معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے :
لا طلاق الا بعد نکاح (بیہقی، السنن الکبریٰ، ۹۵۶۴۱)
طلاق، نکاح کے بعد ہی ہو سکتی ہے ۔
سیدنا علی سے ایک شخص نے پوچھا کہ میں نے یہ کہا ہے کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے ۔ سیدنا علی نے کہا، اس سے شادی کر لو۔ طلاق نہیں ہوگی۔ (بیہقی، ۰۶۶۴۱)

Published on: Sep 19, 2018

جواب # 164013

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1263-120T/M=1/1440



مستدرک کی روایت ہے: حدثنا علی ثنا علی بن عبد العزیز ثنا عمرو بن عون ثنا ہیشم ثنا عامر الاحول عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا طلاق فیما لایملک ولاعتق فیما لایملک۔



دوسری روایت ہے: حدثنا ابوالعباس محمد بن یعقوب ثنا محمد بن سنان القزاز ثنا أبوبکر الحنفی ثنا ابن أبي ذئب ثنا عطاء حدثنی جابر قال سمعت النبی علیہ السلام یقول: لاطلاق لمن لم یملک ولا عتاق لمن لم یملک ۔ ہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین (مستدرک حاکم) یہ روایت صحیح ہے اور شیخین کی شرط کے مطابق ہے۔ بیہقی کی روایت جو حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے اس کی سند یہ ہے: أخبرنا ابو عبد اللہ الحافظ نا ابوبکر محمد بن عبد اللہ الشافعی نا ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل نا سعید بن ابی مریم نا عبد المجید بن عبد العزیز نا جیریج عن عمرو بن دینار عن طاوٴس عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا طلاق إلا بعد النکاح ولا عتق إلا بعد ملک ۔ اور دوسری روایت کی سند یہ ہے: حدثنا ابو محمد عبد اللہ بن یوسف الاصبہانی انا ابوسعید بن الاعرابی نا سعدان بن نصرنا معاذ العنبری عن حمید الطویل عن الحسن بن علی بن ابی طالب قال: لا طلاق الامن بعد نکاح، ورواہ مبارک بن فضالة عن الحسن أن رجلا سأل علی بن أبی طالب قال قلت إن تزوجت فلانة فہی طالق قال قال علی: تزوجہا فلاشیء علیک (السنن الکبری) اس روایت کی تحقیق نہیں ہوسکی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات