عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 163771

حضرت مفتی صاحب! میرے دو سوال ہیں کافی وقت سے جاننا چاہتا ہوں کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ کہتا ہے۔
(۱) اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) روٹی کیسے توڑتے تھے؟ کچھ کہتے ہیں دونوں ہاتھ کا استعمال کرتے تھے۔ کچھ کہتے ہیں صرف سیدھے ہاتھ کی تین انگلیوں سے۔ شہادت کی انگلی سے روٹی کو دبا کے توڑتے تھے جیسا کہ عام طریقہ ہے مشہور۔
(۲) جب روزانہ اذان ہوتی ہے یا اقامت کہی جاتی ہے (جمعہ کے خطبہ کے علاوہ) اور أشہد أن محمد رسول اللہ پڑھا جائے تو اس وقت درود شریف پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ ایک صاحب کہہ رہے تھے یہ شرک ہے۔ کلمے اور اذان کے جوالفاظ ہیں اسے ہی دوہرایا کرو ، درود مت پڑھو۔
برا ہ کرم، راہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jul 26, 2018

جواب # 163771

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1160-853/SN=11/1439



(۱) احادیث میں یہ بات تو آئی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھانا تناول فرماتے وقت صرف تین انگلیاں استعمال کرتے تھے۔ (مسلم شریف، رقم: ۳۲، ۲۰، باب استحباب لعق الاصابع ) ؛ لیکن یہ بات کہیں نظر سے نہیں گذری کہ آپ علیہ الصلاة والسلام روٹی کیسے توڑتے تھے؟



(۲) أشہد أن محمدا رسول اللہ کے بعد ”صلی اللہ علیہ وسلم“ پڑھنے کو شرک کہنا تو صحیح نہیں ہے؛ البتہ اذان یا اقامت کہتے وقت یا ان کا جواب دیتے وقت اذان و اقامت کے کلمات ہی دہرانے پر اکتفا کرنا چاہئے؛ درود نہ پڑھنا چاہئے۔ (احسن الفتاوی: ۲/۲۷۸، ط: زکریا) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات