عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 162910

سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ فجر کی نماز کے بعد جو نیندہے اشراق سے پہلے یہ مکروہ ہے اور یہ بہت برا عمل ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے اور اس کی کافی نقصانات بھی ہے یہ تو مسلم بات ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ رمضان میں تو لوگ سحری کیلئے اٹھتے ہیں اور اکثر سحری سے پہلے بھی اٹھتے ہیں تہجد کیلئے ، اور یہاں پاکستان میں رمضان کا معمول یہہے کہ اذان فجر کے نصف گھنٹہ بعد فجر پڑھی جاتی ہے تو فجر پڑھ کے لوگوں پہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور سویرے یعنی سحری کیلئے اٹھ کے بے ارام ہوئے ہوتے ہیں تو فجر پڑھ کے فورا سوجاتے ہیں کیا اس نیند کا بھی یہی حکم ہے جو رمضان کے علاوہ کے مہینوں میں ہے یا اس میں کچھ گنجائش ہے ؟

Published on: Jul 5, 2018

جواب # 162910

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1109-966/D=10/1439



پوری حدیث مع حوالہ نقل کریں، ضروریات مستثنیٰ ہوتے ہیں لہٰذا رمضان کی خاص ضرورت کی بنا پر گنجائش ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات