عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

kashmir

سوال # 161815

عرض یہ ہے کہ کل یہ پوسٹ فیس بک پہ نظر آیا اس کا جواب دینا ہے ، تصویر میں دیا گیا جواب میں نے دیا ہے مگر تھوڑا صاف فرنٹ میں نہیں ہے یہ حدیث پورا بھیجے اور اس کے رشنی میں جواب دے
https://www.facebook.com/ziauddin.hab/posts/598643053809091?
comment_id=599567023716694&reply_comment_id=601946196812
110if_id=1525185755358007if_t=feed_comment_reply&ref=notif
دیوبندی جھوٹ بولتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 20 دیا، جبکہ صحیح یہ ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (8تراویح+3وتر) گیارہ رکعت پڑھانے کا حکم دیا. وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ، أَنَّہُ قَالَ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَتَمِیمًا الدَّارِیَّ أَنْ یَقُومَا، لِلنَّاسِ بِإِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً قَالَ وَقَدْ کَانَ الْقَارِءُ یَقْرَأُ بِالْمِئِینَ حَتَّی کُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَی الْعِصِیِّ مِنْ طُولِ الْقِیَامِ وَمَا کُنَّا نَنْصَرِفُ إِلاَّ فِی فُرُوعِ الْفَجْرِ . موطأ إمام مالک - کتاب الصلاة فی رمضان،

Published on: May 31, 2018

جواب # 161815

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:990-854/N=9/1439



فیس بک پر آپ کو کسی نے جو پوسٹ بھیجی ہے، اس میں اس نے علمی خیانت سے کام لے کر اہل حق پر الزام تراشی کی ہے؛ کیوں کہ موٴطا مالک میں اس روایت کے فوراً بعد یزید بن رومان کی روایت آئی ہے، جس میں صاف طور پر موجود ہے کہ حضرت عمرکے زمانے میں لوگ ۲۳/ رکعتیں (۲۰/ تراویح اور ۳/ وتر) پڑھتے تھے۔نیز اگر یہ شخص پیش کردہ روایت کی تفصیل وتشریح کتب حدیث اور ان کی شروح میں دیکھ لیتاتو اسے اہل حق پر الزام تراشی کی جرات نہ ہوتی؛ کیوں کہ موٴطا مالک کے عظیم شارح: حافظ ابن عبد البر اندلسینے لکھا ہے کہ اس روایت میں امام مالکسے وہم ہوا کہ ۲۱یا ۲۳/ بجائے صرف گیارہ رکعتوں کا ذکر فرمایا؛ کیوں کہ محمد بن یوسف کے دیگر کئی شاگردوں نے ۲۱/ کی روایت نقل فرمائی ہے۔ اور بعض علما نے فرمایا کہ اس میں وہم محمد بن یوسف سے ہوا۔ اور بعض علما نے فرمایا: ابی بن کعب اور تمیم داری دونوں میں سے ایک دس رکعتیں اور دوسرا گیارہ رکعتیں پڑھاتا تھا، جن میں سے ۲۰/ رکعت تراویح اور ایک رکعت (بعض ائمہ کے مطابق) وتر ہوتی تھی(مزید تفصیل اوجز المسالک وغیرہ ملاحظہ فرمائیں)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات