عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 161251

میں نے بچپن سے 40 مسنون دعاؤں کو پڑھا ہے اور مدرسے میں بھی پڑھایا جاتا ہے ۔ اس میں ایک دعا ہے کہ "فرض نماز کے بعد سلام پھیر کر سر پہ دائیں ہاتھ دکھ کر دعا پڑھیں" بسم اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم اللھم الذھب عن الھم والحزن میں یہ عمل بچپن سے کرتا آرہا ہوں۔ چند روز قبل مجھ سے اک شخص نے اس عمل کے حوالے سے پوچھا کہ آپ کیوں کرتے ہیں یہ ؟ میں نے کہا کہ یہ آسان نماز میں 40 مسنون دعاؤں میں لکھا ہے تو کر رہا ہوں۔ اس شخص نے مجھ سے اس عمل کے حوالے سے حدیث کا یقینی حوالہ مانگا ہے جوکہ میرے پاس نہیں ۔ تو اس نے پھر یہ کہا کہ یہ عمل کرنا درست نہیں ہے ناجائز ہے۔
میرا سوال اب یہ ہے کہ کیا واقعی یہ عمل ناجائز ہے اور اگر جائز ہے تو اس کا حدیث سے مجھے حوالہ دے دیں۔ اور اگر ناجائز ہے تو پھر آسان نماز کی کتاب میں کیوں لکھا گیا ہے اور مدارس میں کیوں پڑھایا جارہا ہے ؟ برائے مہربانی میری اصلاح فرمائے ۔

Published on: May 27, 2018

جواب # 161251

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:890-772/D=9/1439



آسان نماز میں صحیح لکھا ہے اس پر آپ کا عمل بھی درست ہے، جس نے منع کیا غلط کیا یہ عمل حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے معجم اوسط (جو حدیث کا اہم مجموعہ ہے) میں منقول ہے عن أنس قال کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا صلی وفرغ من صلاتہ مسح بیمینہ علی رأسہ وقال بسم اللہ الذي لا إلہ إلا ہو الرحمن الرحیم اللہم اذہب عني الہم والحزن․ (معجم اوسط طبرانی: ۳/۲۸۹، حدیث: ۳۱۷۸)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات