عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 161159

سراور داڑھی پر تیل لگانے کا سنت طریقہ و اوقات اگر کوئی ہیں اور سرمہ لگانے کا سنت طریقہ و اوقات اگر کوئی ہیں ناخن کاٹنے کا سنت طریقہ و اوقات اگر کوئی ہیں بحوالہ (قرآن و حدیث )بتا کر رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 30, 2018

جواب # 161159

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1078-104TL/=9/1439



بالوں کو دھونا، تیل لگانا اور کنگھا کرنا مسنون ہے لیکن درمیان میں ایک دو روز کا وقفہ کرنا چاہیے بعض کتابوں کے اندر تیل لگانے کا یہ طریقہ مذکور ہے کہ بائیں ہاتھ کی ہ تھیلی میں تیل لے کر پہلے ابروٴوں پر پھر آنکھوں پر پھر آخر میں سر پر تیل ڈالے واضح رہے کہ سر میں تیل ڈالنے کی ابتداء پیشانی کی جانب سے کرنی چاہیے البتہ سرمہ لگانے میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک یہ تھا کہ آپ داہنی آنکھ سے افتتاح کرتے اور جانبین سے تین سلائی ڈالنے کے بعد داہنی آنکھ پر ہی اختتام فرماتے، جہاں تک ناخن کاٹنے کا مسئلہ ہے تو صحیح احادیث سے کیفیت ودن وغیرہ کی تعیین ثابت نہیں ہے بلکہ حسب ضرورت ان کو کاٹ لینا چاہیے لیکن بعض علمائے کرام نے بیان کیا ہے کہ داہنے ہاتھ کی انگشت شہادت سے شروع کریں اور چھنگلی تک پھر ہاتھ کی چھنگلی سے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پھر آخر میں داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹیں اسی طریقے سے پیروں کے اندر کریں کہ داہنے پاوٴں کی چھنگلی سے شروع کرکے انگوٹھے تک پھر بائیں پاوٴں کے انگوٹھے سے چھنگلی تک ترتیب وار ناخن کاٹ لیے جائیں واضح رہے کہ اس سلسلے میں کوئی خاص طریقہ منقول اور صحیح روایت سے ثابت نہیں اس لیے اس طریقے پر ناخن کاٹنے کو مسنون ومستحب تصور نہ کیا جائے۔



قال عصام ویوٴید الاکتفاء بالأثنین في الیسری ما ذکر بعض الأئمة أنہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یفتتح في الاکتحال بالیمنی ویختم بہا تفضیلا لہا فإن الظاہر أنہ صلی اللہ علیہ وسلم یکتحل في الیمنی اثنین وفي الیسری کذلک ثم یأتی بالثالث الیمنی لیختم بہا ویفضلہا علی الیسری لواحد (شمائل ترمذی: ص۵ط: رشیدیہ) قولہ: ”والأولی تقلیمہا کتخلیلہا“ یعنی یبدأ بخنصر رجلہ الیمین ویختم بخنصر الیسری.



قال فی الہدایة عن الغرائب: وینبغی الابتداء بالید الیمنی والانتہاء بہا فیبدأ بسبابتہا ویختم بإبہامہا، وفی الرجل بخنصر الیمنی ویختم بخنصر الیسری اہ ونقلہ القہستانی عن المسعودیة، قولہ: ”قلت إلخ“ وکذا قال السیوطی: قد أنکر الإمام ابن دقیق العید جمیع ہذہ الأبیات وقال لا تعتبر ہیئة مخصوصة، وہذا لا أصل لہ فی الشریعة، ولا یجوز اعتقاد استحبابہ لأن الاستحباب حکم شرعی لا بد لہ من دلیل ولیس استسہال ذلک بصواب اہ (رد المحتار: ۹/۵۸۲، ط: زکریا دیوبند) قلت: وفی المواہب اللدنیة قال الحافظ ابن حجر: إنہ یستحب کیفما احتاج إلیہ ولم یثبت فی کیفیتہ شیء ولا فی تعیین یوم لہ عن النبی - صلی اللہ علیہ وسلم ․ (رد المحتار: ۹/۵۸۲، ط: زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات