عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 160985

من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اس حدیث کے صحیح ہونے یا ضعیف ہونے کے بارے میں علما کرام کی کیا متفقہ رائے ہے ؟ حدیث کی رو سے سند کیا ہے ؟ اور حضرت علی رض کے نام کے ساتھ مولا لکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

Published on: May 9, 2018

جواب # 160985

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:975-860/H=8/1439



وعن زید بن أرقم -رضی اللہ عنہ- أن النبی -صلی اللہ علیہ وسلم-: قال من کنت مولاہ فعلی مولاہ․ رواہ أحمد والترمذی․ (مشکاة شریف: ۵۶۴، في باب الفتن) وفي ہامشیہ قولہ رواہ أحمد والترمذي ہذا حدیث صحیح لا مریة فیہ بل بعض الحفاظ عدہ متواترًا اھ یہ حدیث شریف صحیح ہے۔



(۲) اگرچہ لفظ مولیٰ کا استعمال لغةً تو گنجائش رکھتا ہے مگر شیعہ لوگ اپنے خاص نظریہ کے تحت اس کا استعمال کرتے ہیں، اس لیے اہل حق اہل سنت والجماعت کو سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ وکرم وجہہ کے نام نامی کے ساتھ لفظ مولیٰ لکھنا یا بولنا جائز نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات