عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 160962

میرا سیدھا سا ایک سوال ہے کہ امام محمد بخاری (رحمہ اللہ) جن کی لکھی ہوئی حدیث کی کتاب کو قرآن کے بعد کا درجہ حاصل ہے۔ قرآن وہ کتاب ہے جسے اس جہان کے خالق نے اپنے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کی، یعنی میرے بیان میں ایک ہستی وہ ہے جو کسی کی بھی ہستی بدل دینے کی طاقت رکھتی ہے، اور دوسری ہستی وہ ہے جس کی طرح اب قیامت تک دوسری ہستی پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ قرآن کے الفاظ ہیں جو جن کی حفاظت کی ذمہ داری خود اس جہان کے مالک نے لی ہے۔
اللہ معاف کرے، مگر مجھے یہ جاننا ہے کہ امام بخاری کی ہی کتاب کو اتنا بڑا درجہ کیوں دیا گیا اور کس نے دیا؟ ان کی حدیث کی لکھی ہوئی کتاب 100% صحیح حدیثیں سے بھری ہیں اس بات کی کیا سند ہے؟ آج ہم حدیثوں کی ہی وجہ سے کئی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، ایک کہتا ہے یہ حدیث میں لکھا ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ حدیث درست نہیں ہے۔
مہربانی کرکے وضاحت فرمائیں۔

Published on: May 6, 2018

جواب # 160962

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:860-744/N=8/1439



(۱) :آپ نے صحیح بخاری شریف پر جو اشکال کیا ہے، وہی اشکال حضرت اقدس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر بھی ہوگا؛ کیوں کہ کائنات میں اللہ رب العزت کے بعد سب سے اشرف واعلی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت ہے؛ جب کہ یہ دونوں اعتراض ایک غلط فہمی پر مبنی ہیں، اور وہ غلط فہمی یہ ہے کہ کسی کا درجہ میں دوسرے کے بعد ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ دونوں ہم پلہ یا قریب قریب ہیں؛ بلکہ دوسری درجے کی چیز یقینی طور پر پہلے درجے سے کم تر اور فروتر ہوتی ہے؛ اسی لیے اسے دوسرے درجے پر رکھا گیا اور بعض مرتبہ دونوں کے درمیان زمین وآسمان جیسا ؛ بلکہ اس سے بھی زیادہ فرق ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ سب سے اعلی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ خدانخواستہ اللہ تعالی کے ہم پلہ یا قریب قریب ہیں؛ بلکہ دونوں میں زمین وآسمان سے کہیں زیادہ فرق ہے؛ کیوں کہ ایک خالق، دوسرا مخلوق، ایک معبود اور دوسرا عابد، ایک بے نیاز اور دوسرا محتاج ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح صحیح بخاری شریف کا درجہ قرآن کریم کے بعد دیگر کتابوں میں سب سے اعلی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ قرآن کریم کے ہم پلہ یا اس کے قریب قریب ہے۔ باقی صحیح بخاری شریف دیگر تمام کتابوں پر اس وجہ سے فائق ہے کہ اس میں امام بخارینے نہایت محتاط طریقہ پر اعلی درجہ کی صحیح احادیث جمع فرمائی ہیں اور بعد کے محدثین نے ان احادیث کو جانچا تو صحیح پایا۔ اور معلوم ہونا چاہیے کہ محققین کے نزدیک مجموعی طور پر صحیح بخاری شریف کو دیگر کتب حدیث پر فوقیت حاصل ہے ورنہ صحیح بخاری شریف کی ہر ہر حدیث دیگر کتابوں کی ہر ہر حدیث سے اعلی ہو، ایسا کچھ ضروری نہیں ہے، دوسری کتابوں کی کوئی حدیث، صحیح بخاری شریف کی کسی حدیث سے اعلی ہوسکتی ہے۔



(۲): امت مسلمہ میں فرقہ بندی ہرگز احادیث کی وجہ سے نہیں ہوئی، جس کی دلیل یہ ہے کہ یہ احادیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانے میں بھی تھیں ؛ لیکن وہاں امت مسلمہ میں کوئی فرقہ بندی نہیں تھی؛ بلکہ فرقہ بندی نفسانی خواہشات اور غلط عقائد ونظریات کا نتیجہ ہوتی ہے، جیسے:پرویزی فرقہ نے احادیث کی حجیت کا انکار کرکے اپنی الگ جماعت بنالی، غیر مقلدین نے اجماع وقیاس اور دیگر مختلف اصولی باتوں کا انکار کرکے اپنی الگ جماعت بنالی،وغیرہ؛ البتہ تمام مرتد یا گمراہ فرقے مسلمانوں میں اپنے باطل وغلط عقائد ونظریات کی اشاعت کے لیے قرآن وحدیث کا جھوٹا سہارا لیتے ہیں ورنہ اگر وہ قرآن وحدیث کا جھوٹا سہارا نہ لیں تو کوئی مسلمان ان کے جھانسے میں نہیں آئے گا؛ اس لیے یہ سمجھنا کہ امت میں فرقہ بندی احادیث کی وجہ سے ہوئی ہے، سخت نادانی ؛ بلکہ نہایت گستاخانہ اور گمراہ کن خیال ہے ، اللہ تعالی حفاظت فرمائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات