عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

pakistan

سوال # 158209

اگر کوئی شخص اپنے استاد سے سن کر کوئی حدیث آگے بیان کر دے اور بعد میں معلوم ہو کہ حدیث کاذب تھی اور استاد کے پاس بھی کوئی سند اور حوالہ موجود نہ ہو تو کیا اس شخص پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات منصوب کرنے کا گناہ ہوگا ؟ اس حال میں کہ وہ ان سب لوگوں کو دوبارہ ڈھونڈ کر بتا بھی نہ سکتا ہو کہ اس سے غلطی ہو گئی ؟ اس صورت میں کیا کفارہ ادا کیا جائے گا ؟

Published on: Jan 31, 2018

جواب # 158209

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:427-377/SD=5/1439



 اگر مذکورہ شخص نے موضوع حدیث استاد سے سن کر دوسروں سے نقل کردی،اُس کو پہلے سے حدیث کے موضوع ہونے کا علم نہیں تھا، تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرنے کی وعید میں داخل نہیں ہوگا؛ اس لیے کہ اُس حدیث میں یہ شرط ہے کہ انسان جان بوجھ کر غلط بات منسوب کرے ،یعنی اُس کو معلوم ہو کہ حدیث موضوع ہے ، اس کے باوجود وہ حدیث کے نام سے دوسروں سے بیان کرے ،حدیث کا معاملہ نازک ہوتا ہے ، پوری تحقیق کے بعد ہی حدیث آگے نقل کرنی چاہیے ، بالخصوص اگر کوئی استاد ہو،تو اُس کو شاگردوں کے سامنے اور بھی احتیاط ضروری ہے ، جن لوگوں تک موضوع حدیث نقل کی گئی ہے ، حتی الامکان اُن تک صحیح بات بتانے کی کوشش جاری رکھی جائے اور اللہ سے توبہ استغفار بھی کیا جائے ۔ قال الملا علی القاری : وفیہ إشارة إلی أن من نقل حدیثا وعلم کذبہ یکون مستحقا للنار إلا أن یتوب، لا من نقل عن راو عنہ علیہ السلام، أو رأی فی کتاب ولم یعلم کذبہ.( مرقاة المفاتیح : ۲۸۱/۱، کتاب العلم ، ط: دار الفکر، بیروت، لبنان) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات