عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Canada

سوال # 157955

نمبر ۱ ۔ میں نے سنا ہے کہ قیامت کے روز جہنم بار بار اللہ سے فریاد کرے گی کہ اور لوگ ڈالے جائیں، پھر اللہ اپنی بائیں ٹانگ ڈالے گا تو جہنم بھر جائے گی ؟ شاید یہ صحیح بخاری شریف یاں پھر صحیح مسلم میں بھی مذکور ہے ۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 15, 2018

جواب # 157955

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:422-342/N=4/1439



جی ہاں! یہ حدیث شریف صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں آئی ہے؛ البتہ دونوں میں مطلق قدم یا پیر کا ذکر ہے، دائیں یا بائیں کی صراحت نہیں ہے اور قدم یا پیر کا لفظ متشابہات میں سے ہے، جن کے بارے میں اہل السنة والجماعة کی دو رائے ہیں؛ ایک تنزیہ مع التفویض، یعنی: مخلوق کی مشابہت سے اللہ تعالی کو پاک ومنزہ قرار دیتے ہوئے قدم اور قدم رکھنے کی حقیقت اور کیفیت علم الہی کے حوالہ کرنا، یہ سلف کامسلک ہے اور اسلم راستہ یہی ہے۔ اور دوسری رائے ہے: تنزیہ مع التاویل ، یعنی: مخلوق کی مشابہت سے اللہ تعالی کو پاک ومنزہ قرار دیتے ہوئے اللہ تعالی کی شایان شان درجہ احتمال میں کوئی مناسب معنی مراد لینا، جیسے: قدم رکھنے کا مطلب: اللہ کے حکم سے جہنم کی طرف سے مزید کا مطالبہ ختم ہوگا اور وہ سکڑجائے گی۔



عن أنسعن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا تزال جھنم یلقی فیھا وتقول: ھل من مزید حتی یضع رب العزة فیھا قدمہ فینزوي بعضھا إلی بعض فتقول: قط قط بعزتک وکرمک الخ متفق علیہ (مشکاة المصابیح، باب خلق الجنة والنار، الفصل الأول، ص:۵۰۵، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، فمذھب السلف التسلیم والتفویض مع التنزیہ، وأرباب التأویل من الخلف یقولون:…وضع القدم علی الشيء مثل للروع والقمع فکأنہ قال: یأتیھا أمر اللہ فیکفیھا من طلب المزید ویدل علی ھذا المعنی قولہ: ”فیضع الرب قدمہ علیھا“ ولم یقل فیھا کذا قالہ شارح المصابیح الخ (مرقاة المفاتیح، ۱۰: ۳۵۸، ۳۵۹، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات