عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 157820

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل آپ کی ساری خدمات قبول فرمائیں، آپ کو اپنا فضل اور عافیت عطاء فرمائے آمین ، حضرت میں نے مشکوہ المصابیح میں یہ حدیث پڑھی : وعن جابر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم : " لا یدخل الجنة لحم نبت من السحت وکل لحم نبت من السحت کانت النار أولی بہ " . رواہ أحمد والدارمی والبیہقی فی شعب الإیمان ترجمہ: اور حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ گوشت جس نے حرام مال سے پرورش پائی ہے جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جو گوشت یعنی جو جسم حرام مال سے نشوونما پائے وہ دوزخ کی آگ ہی کے لائق ہے ۔ (احمد دارمی بیہقی)۔
حضرت مفتی صاحب، جب میں نے یہ حدیث سوشل میڈیا پر شیئر کی تو ایک نادان نے اس پر کہا کہ "اس میں بچے کا کیا قصور ہے کہ وہ جنت میں داخل نہ ہوگا"۔ جیسا کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر پرورش کا لفظ بچوں کی پرورش کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس لیے اس نادان نے بھی اس وعید کو بچوں کی طرف منسوب کر لیا ۔ میں نے اسے کہا کہ پرورش مطلب نشوونما ، کھانا پینا جب بھی ہو جوان ہو یا بوڑھا وہ بھی جو کہاتا ہے تو ان کے گوشت کی پرورش ہو رہی ہوتی ہے اس لیے اس سے سب مراد ہیں ۔ حضرت اس حدیث مبارک کے اردو ترجمہ میں پرورش کی جگہ دوسرا کوئی لفظ آسکتا ہے تاکہ اردو سے ناواقف لوگ اسے بچے کی پرورش نہ سمجھیں یا پھر تفصیل کیلئے بریکٹ میں اس طرح سے کچھ لکھ دینے کا مشورہ اور اجازت عنایت فرمائیں ۔
ترجمہ: اور حضرت جابر رض راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ گوشت (کسی بھی عمر کا انسان) جس نے حرام مال سے پرورش پائی ہے (حرام مال سے کھایا پیا ، تیار ہوا) جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جو گوشت یعنی جو جسم حرام مال سے نشوونما پائے وہ دوزخ کی آگ ہی کے لائق ہے (احمد دارمی بیہقی) یا میں نے اگر کچھ غلط کہا ہے تو میری اصلاح فرمادیں ۔ خیر آمین

Published on: Jan 22, 2018

جواب # 157820

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:523-488/H=4/1439



حدیث شریف یا اس کے پہلے ترجمہ میں بچہ کی تو کوئی قید نہ تھی معلوم نہیں اس نادان نے کیسے سمجھ لیا تاہم آپنے جو ترجمہ کرکے بین القوسین وضاحت کردی وہ بھی درست ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات