عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 157426

کیا ایسی کوئی حدیث ہے جب دو مسلمان آپس میں جھگڑ لیں اور تین دن سے زیادہ بات نہ کریں تو وہ کامل مسلم نہیں، ایسے معاملات سے متعلق کسی کتاب کا نام بتائیں۔ جزاک اللہ

Published on: Dec 25, 2017

جواب # 157426

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:353-280/sd=4/1439



بعینہ مذکورہ الفاظ کی صراحت کے ساتھ تو ہمیں حدیث نہیں ملی ، البتہ اس مضمون کی بہت سی حدیثیں موجود ہیں، جس میں مسلمان بھائی سے ( بغیر کسی شرعی سبب کے ) تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی ممانعت آئی ہے ، ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن کے لئے جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی سے (قطع تعلق کرکے ) اسے تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے ، لہذا اگر تین دن گذر جائیں تو اپنے بھائی سے مل کر سلام کرلینا چاہئے ، اگر اس نے سلام کا جواب دے دیا تو اجروثواب میں دونوں شریک ہوگئے اور اگر سلام کا جواب نہ دیا تو وہ گنہگار ہوا اور سلام کرنے والا قطع تعلقی (کے گناہ) سے نکل گیا ۔ ایک اور حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم ایک دوسرے سے تعلقات منقطع نہ کرو،نہ ایک دوسرے سے منہ موڑو(پیٹھ دکھاوٴ)نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو،نہ آپس میں حسد کرو،اور اے اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاوٴ۔اور کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے (مسلمان)بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھے ۔(صحیح بخاری،کتاب الادب،باب ما ینھی عن التحاسد والتدابر،وباب الھجرة،و صحیح مسلم،کتاب البر،باب النھی عن التحاسد) ایک دوسری حدیث میں ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا’کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے (مسلمان)بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق منقطع رکھے ’دونوں کا آمنا سامنا ہو تو یہ اس سے اور وہ اس سے منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۔(صحیح بخاری،کتاب الادب،باب الھجرة،و کتاب الا استئذان، و صحیح مسلم،کتاب البر،باب تحریم الھجرفوق ثلاث)اس طرح کے معاملات سے متعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویکی کتاب: حیاة المسلمین، جزاء الاعمال ، بہشتی زیور اور ڈاکٹر عبد الحی کی کتاب اسوہ رسول اکرم وغیرہ کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات