عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 157049

سوال: حدیث جساسہ کے سلسلے میں ہو چکے اکابر کے اختلاف جس میں ایک طرف مفتی سعید صاحب تھے اور دوسری طرف مولانا نعمت اللہ صاحب..اس میں آخری فیصلہ کیا ہواتھا کیا حدیث جساسہ کو غیر ثابت قرار دیا گیا تھا؟ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں نیز دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کا اس حدیث کے بارے میں کیا موقف ہے ؟یعنی کیا آپ حضرات اس کو معتبر،ثابت اور وضع سے محفوظ مانتے ہیں یا نہیں؟

Published on: Dec 30, 2017

جواب # 157049

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa:432-402/H=4/1439
حدیث جساسہ کو حضرت مفتی سعید احمد صاحب دامت برکاتہم نے صحیح وثابت تسلیم کرلیا ہے تحفة الالمعی جدید ایڈیشن میں حضرت نے اس کی وضاحت فرمائی ہے چنانچہ فرماتے ہیں: ملحوظہ: پہلے اس حدیث کے متعلق جو لکھا گیا تھا وہ ٹھیک نہیں تھا وہ نہایہ والے حاشیہ سے متأثر ہوکر لکھا گیا، پھر غور کرنے پر یہ بات سمجھ میں آئی کہ حدیث کی سند تو صحیح ہے اس کے توابع وشواہد بھی موجود ہیں؛ اس لیے وہ ساری تشریح حذف کردی گئی اور اس کی جگہ یہ نئی تشریح لکھ دی گئی ہے۔ (تحفة الالمعی: ۵/۶۲۹-۶۳۰، ابواب الفتن، ط: حجاز دیوبند) دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کا موقف اسی نئی تشریح کے مطابق ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات