عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 156546

میرا سوال یہ ہے کہ کیا صحابہ رضی اللہ عنہ کی زندگی مبارکہ سے روحانی علاج کرنا ثابت ہے جس طرح آج کل جو لوگ روحانی علاج (کسی بیماری یا جنات ) کرتے ہیں۔ برائے کرم تفصیل کے ساتھ جواب دیں۔

Published on: Jan 8, 2018

جواب # 156546

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:273-279/M=4/1439



جی ہاں، روحانی علاج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام سے ثابت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب ایک یہودی نے جادو کردیا تھا جس کے اثر سے آپ بیمار ہوگئے، جبرئیل امین نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی کہ آپ پر ایک یہودی نے جادو کیا ہے اور جادو کا عمل جس چیز میں کیا گیا ہے وہ فلاں کنویں کے اندر ہے، اس کو کنویں سے نکالا گیا اس میں گیارہ گرہیں تھی، تو اللہ تعالیٰ نے دو سورتیں (سورہٴ فلق ، سورہٴ ناس) نازل فرمائیں جن میں گیارہ آیتیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرگرہ پر ایک ایک آیت پڑھ کر ایک ایک کھولتے رہے یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک ایک بوجھ سا اترگیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی بیماری پیش آتی تو یہ دونوں سورتیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کرکے سارے بدن پر پھیرلیتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن حبیب سے روایت ہے کہ ایک رات میں بارش ہورہی تھی اور سخت اندھیری تھی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے نکلے جب آپ کو پالیا تو آپ نے فرمایا کہ کہو، میں نے عرضا کیا کہ کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: قل ہو اللہ أحد اور معوذتین پڑھو، جب صبح ہو اور جب شام ہو تین مرتبہ یہ پڑھنا تمہارے لیے ہرتکلیف سے امان ہوگا۔ (رواہ الترمذی، ابوداو النسائی، مظہری)



خلاصہ یہ ہے کہ تمام آفات سے محفوظ رہنے کے لیے یہ دو سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کا معمول تھیں۔ (دیکھئے معارف القرآن: ۸/۸۴۷) اسی طرح حدیث میں ہے کہ لا بأس بالرقی ما لم یکن فیہ شرک یعنی رقیہ (جھاڑ پھونک) میں حرج نہیں جب تک کہ اس میں شرکیہ بات نہ ہو، لہٰذا معلوم ہوا کہ جائز جھاڑ پھونک کے ذریعہ روحانی علاج جائز اور ثابت ہے البتہ یہ ضروری ہے کہ اس علاج کو موٴثر بالذات نہ سمجھے، موٴثر حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، علاج کو سبب کے درجہ میں اختیار کیا جائے، اور یہ بھی شرط ہے کہ شرکیہ کفریہ کلمات نہ ہوں، آج کل بہت سے روحانی معالجین عملیات سے ناواقف ہونے کے باوجود علاج کرتے ہیں اور اس میں شرعی حدود کی رعایت بھی نہیں کرتے اور جھوٹ بول کر پیسے لے لیتے ہیں یہ جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات