عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 145517

ایک حدیث ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”علم سیکھنے اگر تمہیں چین جانا پڑے تو جاوٴ“ اس حدیث کے بارے میں ہمارے یہاں کے ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ یہ حدیث شیعہ وغیرہ لوگوں کی بنائی ہوئی ہے کیونکہ کوئی علم سیکھنے سعودی جائے گا یا چین جائے گا، تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا بنائی ہوئی ہے اگر صحیح ہے تو اس کا جواب حوالے کے ساتھ دیں جس سے مجھے اطمینان ہو جائے۔

Published on: Nov 13, 2016

جواب # 145517

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 054-035/D=2/1438



 



مذکورہ حدیث کو امام بیہقی علامہ سیوطی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ، ابن حبان نے باطل اور ابن جوزی نے موضوع قرار دیا، اور حافظ مزی نے حسن لغیرہ اور حافظ ذہبی نے اس کی بعض سند کو صالح قرار دیا قال البیہقی: ہذا حدیث متنہ مشہور وإسنادہ ضعیف وقد روی من أوجہ کلہا ضعیف (شعب الایمان: ۳/۱۹۳رقم: ۱۵۴۳ط: الرشد ریاض) وقال الإمام العجلونی: اطلبوا العلم ولو بالصین فإن طلب العلم فریضة علی کلی مسلم رواہ البیہقی والخطیب وابن عبد البر والدیلمي وغیرہم عن أنس وہو ضعیف بل قال ابن حبان باطل وذکر ابن الجوزی فی الموضوعات ونوزع بقول الحافظ المزي لہ طرق ربما یصل بمجموعہا إلی الحسن ویقول الذہبي فی تلخیص الواہیات روی من عدة طرق واہیات وبعضہا صالح (کشف الخفاء: ۱/۱۵۶، ط: عصریہ) واضح رہے کہ حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا بشرط ثبوت کے اس سے علم دین مراد ہے تفصیل کے لیے مطالعہ فرمائیں ”باقیات فتاوی رشیدیہ ص: ۳۹۸تا ۴۰۲۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات