عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 12228



میں نے کتاب فضائل اعمال موٴلف حضرت شیخ
الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ کے حکایات صحابہ رضي الله عنه
میں صفحہ نمبر 75 پر یہ حدیث پڑھی: [حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالی
عنہ کی شہادت: غزوہ احد میں حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ اول سے شریک نہیں تھے۔
کہتے ہیں کہ ان کی نئی شادی ہوئی تھی بیوی سے ہمبستر ہوئے تھے اس کے بعد غسل کی تیاری
کررہے تھے اور غسل کرنے کے لیے بیٹھ بھی گئے تھے سر کو دھورہے تھے کہ ایک دم
مسلمانوں کی شکست کی آواز کان میں پڑی جس سے تاب نہ لاسکے، اسی حالت میں تلوار
ہاتھ میں لی اور لڑائی کے میدان کی طرف بڑھے چلے گئے اور کفار پر حملہ کیا او
ربرابر بڑھتے چلے گئے کہ اسی حالت میں شہید ہوگئے․․․․․․الخ۔ اور اسی کتاب میں حکایات
صحابہ
رضي الله عنه میں صفحہ نمبر37 پر یہ حدیث پڑھی:
حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے متعلق نفاق کا ڈر: حضرت حنظلہ رضی اللہ
تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں
تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ فرمایا جس سے قلوب نرم ہوگئے او رآنکھوں
سے آنسو بہنے لگے اور اپنی حقیقت ہمیں ظاہر ہوگئی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی
مجلس سے اٹھ کر میں گھر آیا، بیوی بچے پاس آگئے اور کچھ دنیا کا ذکر اور تذکرہ
شروع ہوگیا اور بچوں کے ساتھ ہنسنا بولنا بیوی سے مذاق شروع ہوگیا اور وہ حالت جاتی
رہی جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھی․․․․الخ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ [ان
کی نئی شادی ہوئی تھی بیوی سے ہمبستر ہوئے تھے] اور دوسری جگہ [حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر میں گھر آیا، بیوی بچے پاس آگئے اور کچھ دنیا کا
ذکراور تذکرہ شروع ہوگیا اور بچوں کے ساتھ ہنسنا بولنا بیوی سے مذاق شروع ہوگیا]۔
کیا یہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ دوسرے ہیں او روہ دوسرے حضرت حنظلہ رضی اللہ
تعالی عنہ ہیں، یا ایک ہی ہیں یا حضرت حنظلہ نے دوسری شادی کی تھی ان کی شادی کی ایک
ہی رات گزاری تھی کہ غزوہ احد میں شہید ہوگئے۔ تو بیوی بچے کہاں سے آگئے اور اگر
دوسری شادی کی تھی تو دوسری بیوی کا نام کیا تھا۔ او ردونوں حدیث کا حوالہ سند کے
اعتبار سے کہاں سے ہے؟ مکمل و مدلل حدیث کے حوالے سے جواب مطلوب ہے میری رہنمائی
ہوگی۔  والسلام



Published on: May 11, 2009

جواب # 12228

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 955=777/ھ



 



فضائل اعمال میں حکایات صحابہ کے صفحہ ۳۷ پر بعنوان: حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کو
اپنے متعلق نفاق کا ڈر، جو واقعہ ہے یہ واقعہ حضرت حنظلہ بن الربیع ابن ربیعہ کا
ہے جیسا کہ اسد الغابہ ص
۶۶
جلد ثانی میں ہے، اور دوسرا واقعہ دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کا ہے اور ان کا نام
نامی اس طرح ہے
حنظلة ابن أبي
عامر الأوسي فہو من سادات المسلمین وفضلائہم وھو المعروف بغسیل الملائکة (اسد
الغابة ص
۶۸ جلد ثانی) الغرض
حکایات صحابہ میں مذکور فی السوٴال دنوں واقعے دو الگ الگ صحابی حنظلہ نامی رضی
اللہ عنہما کے ہیں، تفصیل مذکور کے باوجود کوئی اشکال رہے تو اس کو لکھئے مزید تفصیل
ان شاء اللہ اس کے بعد تحریر کردی جائے گی۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات