عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 11124

(۱)صحیح بخاری شریف ایک صحیح کتاب ہے کیا آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل یا ثبوت ہے؟ برائے کرم قرآن اور حدیث یا اقوال یا اسلامی کتابوں سے، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے دلیل عنایت فرماویں کہ صحیح بخاری شریف ایک مستند کتاب ہے، اور دلیل یا ثبوت ان لوگوں کی جانب سے نہیں ہونے چاہئیں جو کہ تبع تابعین کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ (۲)موطا امام محمد، ہدایہ، کتاب الآثار، موطا مالک، مسند احمد، بخاری یہ کتابیں کس ہجری میں لکھی گئی ہیں؟(۳)اگر ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جو کہ تابعی ہیں کوئی فتوی جاری کیا ہے جو کہ صحیح بخاری شریف کی کسی حدیث کے خلاف ہے تو دونوں چیزوں میں یعنی فقہ اور اللہ کی نگاہ میں ہمارے امام صاحب کا درجہ (آسمان) پر ہے اور بخاری کا (زمین) پر ہے، اور بخاری ہمارے امام حنیفہ رحمة اللہ کے بالمقابل کم رتبہ ہیں۔ تو پھر یہ اہل حدیث لوگ امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ پر جو کہ فقہ کے امام ہیں امام بخاری کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ (۴)مسلمانوں نے بخاری کی صحیح بخاری کو مستند کتاب کا درجہ کیسے دیا؟ (۵) صحیح بخاری کے مستند ہونے کی تصدیق کس نے کی؟ (۶)اس شخص کی معتبریت کیا ہے جس نے بخاری شریف کو مستند کتاب قرار دیا ہے؟ (۷)کیاامام بخاری تبع تابعی تھے یا تبع تابعی کے بعد پیدا ہوئے؟ (۸)جس نے بخاری شریف کی تصدیق کی ہے ان کی پیدائش کس ہجری میں ہوئی ہے؟ (۹)کیا اللہ تعالی نے قرآن کریم میں حکم دیا ہے کہ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی اتباع کرنی چاہیے؟

Published on: Mar 7, 2009

جواب # 11124

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 439=358/د


 


بخاری شریف اپنی مختلف خصوصیات کی بنا پر قرآنِ کریم کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب ہے، یہ کتاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کے زمانے میں تو تھی نہیں، تو پھر بخاری شریف کے بارے میں فرمانِ نبوی اور اقوالِ صحابہ کہاں ملیں گے؟ البتہ بخاری شریف یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مجموعہ ہے اور اس میں بھی وہ احادیث ہیں جن کی صحت میں شبہ نہیں، واضح رہے کہ احادیث سب ہی صحیح ہوتی ہیں، اس میں جو ضعف آتا ہے وہ راویوں کی وجہ سے آتا ہے، تو امام بخاری علیہ الرحمة نے جو احادیث نقل کی ہیں، اس میں راوی وغیرہ انتہائی ثقہ ہیں، جس سے اس میں موجود احادیث کے حدیث رسول ہونے میں شبہ نہیں رہ جاتا، اور جو بات حدیث ہو اس کے صحیح ہونے میں قرآن کی آیات بھی ہیں احادیث بھی ہیں، اقوال صحابہ بھی ہیں، بخاری شریف کی صحت پر اجماعِ امت ہے، اور اجماع یہ حجت شرعیہ ہے، امام بخاری رحمہ اللہ کے معاصرین اور اس کے بعد کے معتبر علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ بخاری لکھنے کا آغاز ۲۱۷ میں ہوا اور سولہ سال میں یہ کتاب مکمل ہوئی۔


(۲) موٴطا امام محمد، ہدایہ وغیرہ کا سن تصنیف دیکھنے کے لیے ظفرالمحصلین کا مطالعہ فرمائیں۔


(۳) امام صاحب رحمہ اللہ کا رتبہ بہت بلند ہے اور خیرالقرون میں سے ہیں اورامام بخاری رحمہ اللہ بھی حدیث میں بلند مرتبہ کے مالک ہیں، کسی کی توہین کرنا اچھی بات نہیں ہے، غیرمقلدین جو کرتے ہیں وہ غلو اور تنگ نظری بلکہ کج فہمی کی بنیاد پر ہے۔


(۴) امام بخاری رحمہ اللہ تبع تابعی ہیں ۱۹۴ میں ان کی پیدائش ہے۔


(۵) امام بخاری رحمہ اللہ کی تصدیق کرنے والے ان کے ہم عصر بھی ہیں اور آج تک جمہور علماء کی تصدیق حاصل ہے۔


(۶) قرآن واحادیث کی روشنی میں اقوالِ صحابہ کی تعمیل کا حکم ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات