Pakistan

سوال # 738

فتوی 220/ل  میں آپ نے کہا کہ انگوٹھی پہننا سنت نہیں بلکہ جائز ہے اور نہ پہننا افضل ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی تو پھر یہ سنت کیسے نہیں ہوئی؟ رد المحتار ہمارے لیے حجت نہیں۔ اگر نبى نے پہنی ہے تو کیا سنت نہیں ہوئی؟ تفصیل سے بتائیں۔


والسلام

Published on: Jun 11, 2007

جواب # 738

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 255/د=255/د)


 


جس علت کی بنا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پہنی تھی وہ علت آج کل مفقود ہے اس لیے سنت نہیں کہہ سکتے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کتب إلی کسری و قیصر و النجاش فقیل إنهم لایقبلون کتابا إلا بخاتم فصاغ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتما حلقتہ فضة ونقش فیہ محمد رسول اللّٰہ (شمائل الترمذی مع جامعہ۔ ط اشرف بکڈپو دیوبند ص۷) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ انگوٹھی پہننے کی نہ تھی جب آپ کو ملوک عجم کے پاس خطوط روانہ کرنے ہوئے تو آپ نے خطوط پر مہر لگانے کی غرض سے انگوٹھی بنوائی اس لیے کہ ملوک عجم بغیر مہر کے کوئی تحریر قبول نہیں کرتے تھے آج بھی اگر کوئی حاکم یا قاضی اس غرض سے انگوٹھی پہنے تو انگوٹھی پہننا یقینا اس کے لیے سنت ہوگا، اسی بات کو صاحب رد المحتار نے ان الفاظ میں لکھا ہے قولہ (ترک التختم الخ) أشار إلی أن التختم سنة لمن یحتاج إلیہ کما في الاختیار (الشامی ط زکریا : جص520) رد المحتار میں قرآن وحدیث کے الگ کوئی فقہ نہیں پیش کی گئی ہے بلکہ اس میں جو مسائل ہیں وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مستنبط کیے گیے ہیں اور شریعت مطہرہ ہی کی توضیح وتشریح ہیں، چنانچہ صاحب در مختار لکھتے ہیں: ومحطها أن الفقہ هو ثمرة الحدیث ولیس ثواب الفقیہ أقل من ثواب المحدث (الشامی، ط زکریا: ج1ص138) لہٰذا اس کے نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات