India

سوال # 165181

نمستے انڈیا کا دودھ جو ھمارے شہر کانپور میں بکتا ہے اس میں سور کا پاؤڈر ملا رہتا ہے جو چاینا سے امپورٹ ہوتا ہے اور چاینا میں ۹۹ فیصد سور کا استعمال ہوتا ہے اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ یہ چین سے ہی آتا ہے اور اس بات کے بھی ثبوت ہیں کہ اس میں سور کا پاؤڈر ملا ہوا ہوتا ہے ایسی صورت میں کیا کرا جاے آیا اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ اور دار العلوم دیوبند سے اس بات کی درخواست ہے کہ آپ حضرات اس کی اور ان جیسی چیزوں کی تحقیقات کرکے ایک فہرست بنائیں اور اممت کو آگاہ کریں۔

Published on: Oct 18, 2018

جواب # 165181

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 35-12T/B=2/1440



سور (خنزیر) شریعت میں اپنے تمام اجزا کے ساتھ نجس العین اور حرام ہے؛ لہٰذا اگر دو ماہر فن مسلمان دیانتدار ڈاکٹر، لیبارٹری میں مذکورہ دودھ کی جانچ کرکے اس میں سور کے پوڈر کی ملاوٹ کی تصدیق کرلیں، تو ا س کی خرید و فروخت اور استعمال حرام ہوگا، ورنہ محض شک کی بنا پر حرمت کا حکم صادر نہ ہوگا، قال ابن عابدین تحت قولہ ”خلا خنزیر فلا یطہر“: لأنہ نجس العین بمعنی أن ذاتہ بجمیع أجزائہ نجسة حیا و میتاً الخ ۔ رد المحتار: ۱/۳۵۷، کتاب الطہارة ، باب المیاہ ، ط: زکریا ۔ أما الخنزیر؛ فجمیع أجزائہ نجسة ۔ ہندیة: ۱/۷۷، کتاب الطہارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، مما یتصل بذلک مسائل ، ط: زکریا دیوبند ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات