India

سوال # 163113

میرے ایک رشتہ دار پولیس میں نوکری کرتے ہیں، ان کی تنخواہ تقریباً بیس ہزار روپئے ہے اور وہ رشوت بھی لیتے ہیں۔ اگر ہم ان کے گھر جاکر کچھ کھائیں یا وہ ہمیں کچھ کھلائیں تو یہ حرام ہوگا؟ وہ رشوت سے کتنا کما لیتے ہیں وہ پتا نہیں۔ اگر حرام ہے، تو کیا ہماری عبادت ۴۰/ دن تک قبول نہیں ہوگی ؟
براہ کرم، جواب عنایت فرمائیں۔ یہ میرے لئے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔

Published on: Jul 26, 2018

جواب # 163113

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1055-840/SN=11/1439



دوسرے کے یہاں دعوت کھانے کا شرعی اصول یہ ہے کہ اگر اس کی غالب آمدنی حلال ہے تو دعوت کھانے کی گنجائش ہے، اگر غالب آمدنی حرام (مثلا رشوت وغیرہ) ہے تو جائز نہیں ہے، صورت مسئولہ میں آپ غور کرلیں، اگر آپ کو لگے کہ اس کی غالب آمدنی حرام کی ہے تو اس کے یہاں دعوت نہ کھائیں، حسن انداز سے معذرت کردیں، اگر کچھ اندازہ نہ ہوسکے تو گو آپ کے لئے از روئے فتوی دعوت کھانے کی گنجائش ہوگی؛ لیکن احتیاط اس صورت میں بھی بہرحال بہتر ہے۔ آکل الرباء وکاسب الحرام لو أہدی إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ أن ذلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقرضہ ، وإن کان غالب مالہ حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا ، کذا فی الملتقط (ہندیہ: ۵/۳۴۳، ط: زکریا) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات