Canada

سوال # 162333

مسلمان ہونے کے ناطے میرا قرآن کریم پرایمان ہے اور میں جانتاہوں کہ خنزیر حلال نہیں ہے ، لیکن اگر کوئی ملحد پوچھے کہ خنزیر حلال کیوں نہیں ہے اور گائے/بکرا کیوں حلال ہے؟ تو اس کو جواب دینے کے لیے میرے پاس کوئی پاس جواب نہیں ہے، میں گنا سکتاہوں کہ خنزیر کا گوشت کتنا غیر صحتمند ہے، مگر وہ کہہ سکتاہے کہ بڑے کا گوشت بھی صحت کے لیے مفید نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ملحد یہ سوال کرتاہے تو میں کیسے اس کے سوال کا جواب دوں؟

Published on: Oct 22, 2018

جواب # 162333

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1323-1410/L=2/1440



خنزیر کی حرمت اور گائے ، بکرا کی حلت قرآن کریم سے ثابت ہے اور اللہ رب العزت جو خالق ہیں وہی اس کو حرام فرما رہے ہیں تو اب مزید علت و حکمت کی ضرورت نہیں تاہم علت حرمت کا مسئلہ زیادہ ہی درکار ہے تو اس کی حرمت کے چند اسباب علماء نے تحریر فرمائے ہیں۔



(۱) خنزیر نجس العین ہے چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر مابعد تک تمام انبیاء خنزیر کو برابر حرام ٹھہراتے رہے ہیں اور اس سے کلی اجتناب کا حکم دیتے رہے ہیں یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے وہ بھی اس کو قتل کریں گے اور ظاہر ہے کہ ایسے پلید جانور کا گوشت روح اور جسم کو بھی پلید کردے گا ۔



(۲) اس کے اندر عادات ذمیمہ (بری خصلتیں) پائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں اس کے کھانے والوں میں بھی اس کے اثرات منتقل ہوتے ہیں اور یہ بات خنزیر کھانے والی قوموں میں ظاہر ہے کہ ان سے حیا وبے شرمی نکل ہی جاتی ہے اور وہ مثل جانور کے زندگی گزارنے لگتے ہیں۔



(۳) اس کی شکل میں بعض اقوام کا مسخ ہوا ہے اور جس جانور کی شکل میں مسخ ہوتا ہے وہ خبیث ترین جانور ہوتا ہے برخلاف گائے بکرا کے ان کے اندر تمام خرابیاں نہیں پائی جاتی اس لئے اللہ رب العزت نے ان کو حلال اور خنزیر کو حرام قرار دیا ہے۔ قل لا أجد فیما أوحی إلی محرما علی طاعم یطعمہ الا أن یکون میتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزیر فإنہ رجس (القرآن، انعام: ۱۴۵) قل ہل أنبئکم بشر من ذلک مثوبة عند اللہ من لعنہ اللہ وغضب علیہ وجعل منہم القردة والخنازیر وعبد الطاغوت الآیة (المائدة: ۶۰) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات