India

سوال # 161289

کیا دریا میں دوائی کے ذریعہ ماری گئی مچھلی کھانا حلال ہے یا نہیں؟

Published on: May 20, 2018

جواب # 161289

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1137-980/L=9/1439



مچھلی پکڑنے کی وجہ سے اگر پانی میں کوئی ایسی دوا ڈال دی جائے جس سے مچھلی کی موت واقع ہوجائے تو ایسی مچھلی کا کھانا حلال ہے: ”ولا یحل حیوان مائي إلا السمک الذي مات بآفة․․․ وما مات بحر الماء أو بردہ وبربطہ فیہ أو إلقاء شیء فموتہ بآفة․ وہبانہ․ وفي الشامي قولہ أو إلقاء شي وکان یعلم أنہا تموت منہ قال في المنح: أو أکلت شیئًا ألقاہ في الماء لتأکلہ فماتت منہ وذلک معلوم (درمختار مع شامي: ۹/۴۴۴)۔وفي الہندیة: ولو مات في الماء ولم یطف أکل وکذلک کل ما مات بسبب یحل بأن ضربہ بخشب و نحوہ (عالمگیري: ۵/۴۲۹)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات